Home / شخصیات / جدیدلاہورکے بانی سرگنگارام

جدیدلاہورکے بانی سرگنگارام

انجینئر رائے بہادرسرگنگارام کی انسان دوست شخصیت، عزم و حوصلے کی بدولت جدید لاہور کا قیام عمل میں آیا، لاہور کا چپہ چپہ سرگنگارام کی خدمات کا گواہ ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم اپنے محسنوں کو بھلا کر نہ صرف تاریخَ پاکستان سے ماضی کی نامور ہندو شخصیات کی خدمات کو یکسر نظرانداز کررہے ہیں ۔
سر گنگا رام 13 اپریل 1851ء کو لاہور کے نواحی قصبے مانگٹانوالہ میں پیدا ہوئے –سرگنگارام ایک دولتمند شخصیت تھے لیکن انہوں نےخداسے پچاس فیصد کی پارٹنرشپ کرکے دین دھرم سے بالاتر ہوکرخدمتِ انسانیت کیلئے اپنی دولت وقف کردی،وہ ملک سے غربت،بیماری،تعلیم کے فقدان اور بے روزگاری کے خلاف ساری عمرنبردآزمارہے،وہ ایک ایسے فلاحی معاشرے کے قیام کیلئے عمربھرکوشاں رہے جس میں تمامانسانوں کوبرابری کی سطع پر یکساں حقوق میسرہوں –سرگنگارام ہسپتال،جی پی او،لاہورعجائب گھر،ایچیسن کالج،گورنمنٹ کالج لاہورکا کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ،میواسپتال کاالبرٹ وکٹرونگ،میوسکول آف آرٹس(موجودہ این سی اے)،ماڈل ٹاؤن اورگلبرگ جیسی اس دور کی جدیدعمارات کی نئی کالونیوں کے نقشے آج بھی سرگنگارام کی مہارت اور قابلیت کا اعتراف کرتے ہیں۔انگریز سرکارکے گورنر پنجاب سر میلکم ہیلی نے سرگنگارام کی سماجی شخصیت کوان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیاتھا کہ وہ ایک سورما کی مانندجیتتا ہے اور ایک صوفی کی ماننددان کرتا ہے،سانحہ بابری مسجد کے ردعمل میں1992ءمیں انسان دوست عظیم شخصیت سرگنگارامکی راوی روڈپر بڈھے راوی کے کنارے واقع عظیم الشان سمادھی کو شدیدتوڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

موسیقارماسٹرمنظورحسین

اکمل شہزاد گھمن لازوال دھنوں کے خالق ماسٹر منظور 24دسمبر 2012ء کو وفات پاگئے مگر …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: