Home / تاریخ / کلمۂ طیبہ والامنفرد برطانوی سکہ

کلمۂ طیبہ والامنفرد برطانوی سکہ

Muhammad Naeem Murtaza

محمدنعیم مرتضیٰ
کیاآپ اس بات پر یقین کرسکتے ہیں کہ برطانوی تاریخ میں ایک ایساسکہ بھی تیار کیاگیاجس پر کلمہ طیبہ کندہ تھا۔جی ہاں ایسا اب سے کوئی ایک ہزار تین سو پہلے ہوچکاہے ۔ یہ اہم سکہ اب بھی برٹش میوزیم کی زینت اور بہت کچھ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔عربی آیت کاحامل سکہ کیوں جاری ہوا ؟اس سوال کاجواب توکسی کے پاس نہیں اور شایدکسی نے اسے کھوجنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔اس حوالے سے جومعلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق سکے کو انگلستان کے ایک انتہائی بااثر بادشاہ اوفاریکس نے تیارکرایاتھا۔دی نیوانسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے اپنے 1974ء کے ایڈیشن میں لکھاکہ شاہ اوفا ابتدائی اینگلوسیکسن انگلستان کاسب سے طاقتور بادشاہ تھا۔
جن دنوں انگلینڈ الگ الگ ریاستوں میں منقسم تھااس دورمیں وسطی انگلستان میں مرسیہ (Mercia) نام کی ایک ریاست تھی۔اوفانے یہیں آنکھ کھولی ۔ اس کی تاریخ پیدائش تومعلوم نہیں مگر وہ 757ء سے اپنی وفات جولائی 796ء تک مرسیہ کا حکمران رہا۔ اس کے والد کا نام Thingfrithتھاجوشاہی خاندان سے تعلق رکھتاتھا۔ ریاست مرسیہ کوایک زمانے میں طویل خانہ جنگی کاسامنا کرناپڑاجس کے نتیجے میں اوفاکا کزن بادشاہ Aethelban( جو716ء سے 757ء تک تخت نشین رہا)اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا۔ اس کی موت کے بعد اوفاریکس نے متحارب گروہوں پر قابو پایااور عنان اقتدار سنبھال کرایک مضبوط حکومت کی بنیاد ڈا لی۔
تخت نشین ہونے کے بعد اوفاکی اولین ترجیح وسطی قبائل جن میں Hwiccاور Magnosaeta شامل تھے انہیں ریاست مرسیہ کے جھنڈے تلے جمع کرناتھا۔ 762ء میں مرسیہ کی ہمسایہ ریاست کینٹ(Kent) بھی اوفا کے زیرنگیں آگئی۔قبل ازیں کینٹ کے سیاسی حالات بھی شدید ابتری کاشکارتھے جس کافائدہ اوفاکو پہنچا۔771ء میں اوفانے ایک اورریاست سسکس(Sussex)کوبھی اپنی سلطنت کاحصہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔یوں اوفا کی بے پناہ حکمت عملی کے نتیجے میں پوراعلاقہ مرسیہ کے تابع فرمان ہوگیا۔780 ء کے عشرے تک اوفاکااقتدارجنوبی انگلستان کے بیشتر علاقوں پر قائم ہوگیاتھا۔اوفاکی ایک بیٹی Eadburh کی شادی ویسکس( Wessex )کے حاکم Beorhtricسے ہوئی جس سے اوفاکا اثرورسوخ جنوب مشرقی علاقے تک پھیلا۔اوفانے 794ء میں مشرقی اینگلیا کے حکمران AethelberthIIکوشکست دے کر اس علاقے پر بھی قبضہ کرلیا۔یوں اس نے ایک ایسی متحدہ سلطنت کی بنیاد رکھی جس میں Mercia, Lindsey, Essex, Surrey, Sussex, East Anglia, Kent, Wessexکی ریاستیں شامل تھیں جبکہ کئی ریاستیں اس کی باجگزار تھیں۔
برطانوی تاریخ کے سکوں کی تاریخ میں اوفا دورکے سکوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ بعض سکوں پراس کی اہلیہ Cynethryth کی شبیہ بھی ہے۔ یوں وہ واحد اینگلوسیکسن ملکہ ہے جس کی تصویر سکوں پرپہلی بار کندہ ہوئی ۔ برطانوی سکے Pennyکاآغازاوفاہی نے کیاتھا۔اس طرح برطانوی تاریخ میں پہلی بارسونے کے سکے کے اجراء کاسہرابھی اوفاکے سرہے۔سونے کایہ سکہ اس دیناروں کی نقل ہے جو آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ملکوں میں چلتے تھے۔سونے کے اس سکے کے بارے میں اب تک جوتھوڑی بہت معلومات سامنے آسکی ہیں ان کے مطابق اسے kent میں ڈھالاگیاتھا۔ مسلمان خلیفہ منصورنے 157ہجری بمطابق 774ء کو ایک طلائی دینار جاری کیا۔اوفا کاسکہ اسی دورمیں وجود میں آیااور عین اسی انداز کاتھا ۔سرسری نظرڈالنے سے دونوں ایک ہی لگتے ہیں۔ البتہ اوفاکے سکے پر خطاطی کامعیار خلیفہ منصور کے دینارسے کم ہے ۔اس کی وجہ اوفاکے کاریگرو ں کے لئے عربی کااجنبی زبان ہونا تھا۔
سکے پرخط کوفی میں بسم اللہ اور سورۃ اخلاص کندہ ہے۔سکے کے ایک طرف یہ الفاظ عربی میں کندہ ہیں:لاالہ الااللہ واحدہ لاشریک لہ،:(ترجمہ: کوئی الٰہ نہیں سوائے اللہ کے جس کاکوئی شریک نہیں)
کنارے پر حضور اکرمؐ کی رسالت کے اقرارکے الفاظ موجودہیں۔سکے کی دوسری جانب اوفاکانام اور اوپر یہ الفاظ ہیں:’’ شروع اللہ کے نام سے، یہ دینارسال157 میں تیارہوا‘‘
اہم بات یہ کہ تاریخ ہجری میں لکھی گئی ہے۔تاہم برطانوی سکوں پر اسی سے تاریخ لکھنے کارواج پڑا۔ اس کے بعد چارسوسال بعد پوس نارمن عہد میں سکوں پر تاریخ کندہ کرنے کارواج پڑا۔20.000ملی میٹر قطرکے اس سکے کاوزن0 4.28گرام ہے جو اموی دورکے سکوں کے معیاری وزن 4.25گرام کے مطابق ہے۔
شاہ اوفاریکس برطانوی تاریخ کا عالی شان بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی قوم کو متحد،منظم اورمضبوط بنانے کے علاوہ اپنے ملک کی حفاظت کے لئے اپنے علاقے کے گر د دیوار چین کی طرز کی ایک دیوارتعمیرکرائی تھی۔اس دیوار کی تعمیر سے اس نے اپنے ملک کو آئرش دشمنوں کے حملے سے بچالیاتھا۔دیواراوفا(offa’s Dyke) کی لمبائی 125میل تھی۔ یہ Wye کے علاقے سے شروع ہوکر Deeتک جاتی تھی۔ اس کے جنوبی سرے پر پچیس کلومیٹر کاخلاء یاگیپ ہے۔
اس قدر شاندارخدمات کے حامل بادشاہ کے متعلقیورپی تاریخ کی تمام کتب خاموش ہیں۔برطانوی تاریخ کی کتب میں بھی اوفاکے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ جن کتابوں میں کچھ مواد موجود ہے وہ بھی بہت مختصر اورنہ ہونے کے برابرہے۔ یہ صورت حال بڑی معنی خیز، حیران کن اور کئی سوالوں کو جنم دینے والی ہے۔
تمام برطانوی مورخین اس کے چاندی کے سکوں کا ذکرکرتے اورانہیں اہمیت دیتے ہیں مگراس کے سونے کے سکے سے بے اعتنائی سمجھ سے بالاترہے حالانکہ اس سے پہلے کبھی سونے کایہاں سکہ جاری نہ ہواتھا۔
یہ دنیاکی تاریخ میں اپنی نوعیت کاواحد سکہ ہے۔یورپی اور برطانوی مورخین نے جس طرح نظراندازکیاہے وہ بڑامعنی خیز اورپراسرارہے۔ حد تو یہ ہے کہ برٹش میوزیم میں اسے غیرنمایاں جگہ پررکھاگیاہے۔انگلستان کو جدید سکوں اور مضبوط نظام متعارف کرانے والے ایک مضبوط بادشاہ کے متعلق اس قدر بے اعتنائی سمجھ سے بالاتر ہے۔تمام ویب سائٹوں پر بھی اوفاکے بارے میں نامکمل سی تحریریں موجودہیں۔ ویب سائٹ میں جہاں کہیں برطانوی سکوں کی تاریخ کاتذکرہ ہے وہاں اوفا دور کی Pennyکاذکراس قسم کے الفاظ میں ملتاہے The origins of sterling lie in the reign of King Offa of Mercia, who introduced the silver penny.ہے۔
اس طرح اوفاکے سونے کے سکے کاعموماً وہ حصہ دکھایاجاتاہے جس پر آیت واضح نہیں۔ یہ سب باتیں کو چغلی کھاتی ہیں۔ کہیں ایساتونہیں کہ اوفانے اسلام قبول کرلیاہو۔ ایک عرب مورخ ابن الکلبی(737 ء تا 819 ء) کاتوخیال ہے کہ اوفانے اسلام قبول کرلیاتھا۔الکلبی کابیان ہے کہ ہوسکتاہے اوفا ہسپانیہ گئے ہوں اورمسلم ثقافت یامذہب سے متاثرہوکردائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ہوں۔یہی وجہ ہے کہ اوفاکے دورمیں ان کا ہسپانیہ یا بغداد کے عباسی خلیفہ سے کسی قسم کے امن معاہدہ نہ ہواتھا کیونکہ انہیں مسلم ریاستوں سے کوئی خطرہ نہ تھا۔
تاریخ کے مطالعے سے اس بات کابھی پتہ چلتاہے کہ اوفا کے مرکزی چرچ سے تعلقات کشیدہ تھے۔بالخصوص اس کے Jaenaberht آرچ بشپ آف کنٹربری سے اختلافات کااعتراف ’’وکیپڈیا‘‘ پر موجود مضمون میں بھی کیاگیاہے۔ اسی اختلاف کانتیجہ تھاکہ اوفا نے اس مذہبی ادارے کو دوحصوں میں تقسیم کردیاتھا۔ اس طرح اوفاکے بشپ آف وورچسٹرسے بھی اختلافات تھے جنہیں 781ء میں کونسل آف برینٹ فورڈ میں دورکیاگیا۔سکہ پہلی بار 1841ء میں روم میں سامنے آیا اور 1922ء میں برطانیہ لایاگیاجہاں یہ برٹش میوزیم کی سکوں کی گیلری کے ایک کونے میں پڑاہے۔چندایک انگریز ماہرین نے اس سکے کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے صرف اتناکہاہے کہ اوفا مسلمان نہیں ہواتھابلکہ اس نے یہ سکہ محض مسلمان حکومتوں سے تجارت کے لئے بنائے ہوں گے۔اس سکے کو مسلمانوں کے سکے کی نقل کے طورپر اس لئے بنایاگیاتھاکہ باقی یورپ میں اس سکے کی قدروقیمت بڑھائی جاسکے ۔یہ تاویل بھی پیش کی گئی کہ سکہ غالباً پوپ کو تحفے میں دینے کے لئے تیارکرایاتھا۔کچھ کاکہناہے کہیہ سکہ خیرات دینے یا رومی شاہو ں کو تحائف کے طورپر بھجوایاجاتاہوگا اوربس۔ تاہم یہ تمام تاویلات حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنے سے نتائج مختلف مرتب ہوتے ہیں۔ ایک یورپی غیرمسلم بادشاہ کا آیت قرآنی کااپنے سکے پر کندہ کرانا، بالخصوص ایسی آیت جو اسلام کی بنیاد ہو تحقیق کی متقاضی ہے۔ چلئے اگر یہ مان بھی لیاجائے کہ اوفااپنے مذہب پر ہی قائم رہااوراس نے یہ سکہ اپنی ریاست کی شان وشوکت کے اظہار اور معیشت کی مضبوطی کے اظہارکے لئے بنوایاتھاتو مغربی دنیانے اس سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں روارکھا۔آخروہ کیاچیزہے جسے دنیاکی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔اپنی تاریخ، روایات اورماضی سے بے پناہ عقیدت رکھنے والی برطانوی قوم کی اس سکے سے سردمہری ہی دراصل سوالات وخدشات کو جنم دیتی اور دنیایہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ آخر:کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے.
***

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

Ram Thaman

گائوں رام تھمن

گائوں رام تھمن رائے ونڈ کے بیچ راجہ جنگ ریلوے اسٹیشن سے پانچ کلومیٹر کے …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: