Home / مضامین / افراط زرکی انتہا…تین سوٹریلین ڈالر کے ایک درجن انڈے!!

افراط زرکی انتہا…تین سوٹریلین ڈالر کے ایک درجن انڈے!!

ا فراط زر کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں رقم کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اشیاء کم اور اس کے مقابلے میں بہت زیادہ رقم موجود ہو۔ زمبابوے دنیا کا وہ ملک ہے جہاں پر افراط زر کی شرح ایک لاکھ فیصد کی حد کو چھو چکی ہے۔ اس ملک کے باشندے کہنے کو ارب پتی مگر عملاً قلاش ہیں۔ یہ لوگ خوردو نوش کی چیزیں خریدنے کے لئے لاکھ لاکھ ڈالر کے نوٹ تھیلوں اور بریف کیسوں میں رکھ کر نکلتے ہیں۔ مگر اکثر انہیں خالی ہاتھ واپس آنا پڑتا ہے۔ زمبابوے میں غذائی اشیاء کی سنگین قلت اور بے روز گاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس سنگین صورتحال سے پریشان ہوکر اکثر لوگ دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ زمبابوے میں افراط زر کی شرح کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے مرکزی بینک نے 12دسمبر2008ء کو پچاس کروڑ ڈالر کا نوٹ جاری کیا ۔ بینک کا خیال تھاکہ یہ نوٹ افراط زر کی شرح کو کنٹرول کرنے میں مدد دے گا۔مگراس کے کچھ ہی عرصہ بعد2فروری کوزمبابوے کوتین سوٹریلین (300,000,000,000,000)ڈالرکانوٹ جاری کرناپڑا۔اس ملک کے اندراس وقت تین انڈوں کی قیمت سوبلین (100,000,000,000)ڈالرہے۔یہاں ایک کروڑڈالرکا نوٹ جاری کیا گیا تھا۔ گذشتہ دنوں اس ایک کروڑ ڈالر کے نوٹ سے ٹوائلٹ پیپر کے صرف دو رول خریدے جاسکتے ہیں۔ شاید اب ان رولز کی قیمت اس سے بھی زیادہ ادا کرنی پڑے۔ اقتصادی ماہرین اس ملک کے افراط زر کو اس بے قابو ٹرین سے تشبیہ دیتے ہیں جس کا کوئی ڈرائیور ہے نہ بریکیں۔ چونکہ رابرٹ موگا بے گزشتہ 28سال سے برسر اقتدار ہیں اس لئے ملک کی معاشی بدحالی کی تمام تر ذمہ داری ان کی حکومت پر ڈالی جاتی ہے۔ موگابے کا کہنا ہے کہ زمبابوے کو معاشی طور پر تباہ کرنے میں مغربی سامراج کی پابندیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ 1980ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد پہلی مرتبہ حالیہ انتخابات میں موگابے کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملک کی معاشی صورت حال دن بدن زبوں حالی کا شکار ہو رہی ہے۔
سرکاری طور پر ایک امریکی ڈالر 30ہزار زمبابوین ڈالر کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ قبل بلیک مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 3کروڑ پچاس لاکھ زمبابوین ڈالر کے عوض فروخت ہو رہاتھا۔ اس ملک کے باشندوں کی بدقسمتی کا اندازہ لگائیے کہ ان میں ایسے بے شمار ارب پتی ہیں جنہیں دو وقت کا کھانا بھی مشکل سے ملتا ہے۔ مہنگائی نے ان لوگوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کرکھا ہے۔ مہنگائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر زمبابوے کا کوئی باشندہ اپنے پانچ دوستوں کے ساتھ ملک کے کسی غیر معروف ریستوران میں کھانا کھائے تو ہوسکتا ہے کہ اسے 58کروڑ10لاکھ ڈالر ادا کرنا پڑیں۔ بلیک مارکیٹ کے لحاظ سے وہ صرف 21امریکی ڈالر ادا کرے گا۔ اگر اس شخص کو زمبابوے کے بینک کی شرح سے رقم ادا کرنے کو کہا جائے تو انیس ہزار امریکی ڈالر سے زائد رقم ادا کرنا پڑے گی۔
کھیتوں میں کام کرنے والے کارکن کی اوسط اجرت 3کروڑ ڈالر ماہانہ لیتا ہے۔ گھروں میں کام کرنے والے ملازم اس سے پانچ گنا زیادہ رقم کماتے ہیں۔ زمبابوے کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور ایک ماہ میں 30کروڑ ڈالر تنخواہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے بہت حقیر ہیں۔ اگر یہاں پر آپ کو لامشروب کی چار بوتلیں خریدنا چاہیں تو آپ کو 2کروڑ ڈالر کے قریب رقم ادا کرنا ہوگی۔ ایندھن کی قیمتیں ہر گھنٹے کے بعد تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ایسے میں شہر کے اندر سفر کرنے کے لئے آپ کو بس کے یک طرفہ ٹکٹ کی قیمت ایک کروڑ ڈالر ادا کرنا ہوگی۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ بس میں سفر کر رہے ہیں تو اس دوران افراط زر کی شرح میں اضافہ کی وجہ سے کرایہ بڑھ جائے اور آپ کو اس مد میں مزید رقم ادا کرنا پڑے گی۔مکئی کے آٹے کی دو کلو کی تھیلی 4کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کاہے۔ گائے کا آدھا پاؤ گوشت 70لاکھ ڈالر میں ملتا ہے۔ ایک ڈبل روٹی بڑی مشکل سے ایک کروڑ ڈالر میں ملتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری ملازموں کو صرف ساٹھ ہزار ڈالر ماہانہ پنشن ملتی ہے۔ آلو رکھنے والی پلاسٹک کی ایک تھیلی کی قیمت 20لاکھ ڈالر ہے گویاریٹائرڈ ملازم تقریباً تین سال تک اپنی پنشن جمع کرے تو وہ آلو رکھنے والی پلاسٹک کی تھیلی خریدنے کے قابل ہوگا۔
گھروں میں کھربوں ڈالرز کے نوٹ دیکھ کر لگتاہے کہ یہ کرنسی نوٹ نہیں ٹشو پیپر ہیں جو اس طرح بکھرے پڑے ہیں۔ زمبابوے کے باشندے خریداری کے لئے جاتے ہوئے کھربوں ڈالر اپنے بریف کیسوں اور تھیلوں میں بھر کر لے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ رقم خریداری کے لئے کم نہ پڑ جائے۔افراط زرسے پریشان زمبابوے کی حکومت آئے روزبڑے بڑے کرنسی نوٹ جاری کررہی ہے شایداس کاخیال ہے کہ اس سے معیشت میں کچھ بہتری آجائے مگرابھی تک یہ سب کچھ بے سودثابت ہواہے۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

Toba-Tek-Singh

Toba Tek Singh جاویدحفیظ انگریزحکمرانوں نے1890ء کے قریب ساندل بار اور نیلی بار میں نہریں …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: