Home / سیاحت / ٹوبہ ٹیک سنگھ

ٹوبہ ٹیک سنگھ

Toba Tek Singh

جاویدحفیظ:…1890ء کے قریب انگریز حکمرانوں نے ساندل بار اور نیلی بار میں نہریں بنائیں اور ریلوے لائن بچھا دی۔ جالندھر، ہوشیار پور، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ جیسے گنجان آباد اضلاع سے زمیندار یہاں آ کر آباد ہوئے۔ ان میں سکھ اور مسلمان دونوں شامل تھے۔ ہندو تاجر اور مسلمان تاجر زیادہ تر شہروں اور قصبوں میں آباد ہوئے۔ اس زمانے میں سفر گھوڑوں پر ہوتا تھا ۔ سڑکیں کچی اور دشوار گزار تھیں۔ مسافروں کی پیاس بجھانے کے لیے ٹیک سنگھ نامی ایک شخص تالاب سے لوگوں کو پینے کے لیے پانی فراہم کرتا تھا، اسی نیک انسان کا نام اور اس کا فلاحی کام اس شہر کی وجہ تسمیہ بنا۔ پاکستان بننے کے بعد اس نام کو بدلنے کے لیے کئی سال تک کوشش کی گئی جو کہ ناکام رہی ۔مقامی آباد کے ایک موثر حصّے کی دلیل تھی کہ شہر کا نام بدلنا ایک انسان دوست شخص کے فلاحی کام کو فراموش کرنے کے مترادف ہے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اکثریت چھوٹے کسانوں کی تھی۔1930ء کے آس پاس عالمی کساد بازاری شروع ہوئی اور دس سال تک پوری دنیا میں منفی اثرات مرتب ہوتے رہے۔ ان حالات میں روس انقلاب کی صورت میں طلوع ہونے والا سوشلزم کا نظریہ چھوٹے کسانوں میں مقبول ہوا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کسان تحریک زوروں پر تھی۔ یہ لوگ کہتے تھے کہ زرعی زمین اور دیگر پیداوار کے ذرائع مثلاً انڈسٹری مشترک ملکیت میں حکومت کے پاس ہونے چاہئیں۔ یہی وجہ تھی کہ 1970ء میں مولانا عبدالحمید خان بھاشانی نے پورے مغربی پاکستان میں کسان کانفرنس کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا انتخاب کیا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے سے سوشلزم کا نعرہ بھی دم توڑ گیا اور اس کے اثرات ٹوبہ ٹیک سنگھ تک پہنچے۔ پچھلے دو تین عشروں میں اس ضلع میں مسلم لیگ کا ووٹ بنک زیادہ رہا اور اب تحریک انصاف کا چیلنج بھی واضح ہے۔
یہاں اگر کسان تحریک زوروں پر تھی تو دائیں بازو کی پارٹیاں بھی فعال رہیں۔ شہر کا نام والسلام تجویز کیا گیا لیکن سخت مخالفت کی وجہ سے یہ تجویز ترک کر دی گئی۔ مذہبی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے اس شہر میں آج تک ایک بھی سینما ہال نہیں بن سکا۔1965ء کے آغاز میں صدر ایوب اور محترمہ فاطمہ جناح کے درمیان صدارتی انتخاب کا معرکہ ہوا۔ حکومت کی تمام مشینری یعنی تھانیدار اور پٹواری ایوب خان کے لیے کام کر رہے تھے۔ ووٹ صرف بنیادی جمہوریت کے ممبران نے دینا تھا۔ ایک ایک ممبر کو بلا کر دھونس دھمکی اور لالچ دونوں سے رام کرنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن ٹوبہ ٹیک سے مادر ملت کوایوب خان سے زیادہ ووٹ ملے۔ پورے مغربی پاکستان میں صرف کراچی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی حکومت وقت کے سامنے ڈٹے رہے۔ اس ضلع میں سیاسی شعور باقی اضلاع سے زیادہ ہے۔ لیکن مادرملت کوووٹ دینے کی اس علاقے کو ایک سزایہ ملی کہ عرصے تک یہاں کوئی قابل ذکرانڈسٹریل یونٹ نہیں لگااورنتیجہ اقتصادی پس ماندگی کی صورت میں نکلا۔
سیاسی شعور کے باوجود یہاں ووٹ آج بھی برادری کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں خصوصاً دیہی علاقوں میں۔ تحصیل ٹوبہ میں آرائیں برادری واضح اکثریت میں ہے۔ تحصیل گوجرہ میں جاٹ گوجر اور راجپوت برادریوں کا مکسچر ہے۔ لیکن سیاسی طو ر جاٹ سٹرانگ ہیں۔ تحصیل کمالیہ میں کھرل راجپوت مضبوط ہیں لیکن آرائیں برادری انہیں چیلنج ضرور کرتی ہے۔ سیاسی شعور اور چھوٹی لینڈ ہولڈنگ کی وجہ سے علاقے کے لوگ تعلیم کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔1920ء کے آس پاس ڈاکٹر فرید بخش مرحوم نے اپنے دور دراز گائوں میں ہائی سکول بنایا تھا جو بعد میں ڈگری کالج بنا۔ یہاں ایک گائوں موروثی پور ہے جو اپنے شاندار سکول کی وجہ سے مشہور ہوا۔ میں نے اس سکول سے فارغ التحصیل کئی ڈاکٹر انجینئر چارٹرڈ اکائونٹنٹ برطانیہ امریکہ اور کینیڈا میں دیکھے ہیں تعلیم اور محنت کے ذریعہ ترقی اس ضلع کا طرّۂ امتیاز ہے اور اس عمل کی منہ بولتی مثال چوہدری سرور ہیں۔ آج بھی نواحی دیہات سے ہزاروں بچے ٹوبہ کے پرائیویٹ سکولوں میں روزانہ آتے ہیں۔ ویسے تو تقریباً ہر گائوں میں سرکاری سکول ہے لیکن مڈل کلاس کے کسان اپنے بچوں کو انگریزی سکولوں میں ہی بھیجتے ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ لڑکیاں تعلیم میں لڑکوں کے شانہ بشانہ ہیں۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کی روائتی اقتصادی پس ماندگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں کے ووٹرز نے کئی مرتبہ ایسے لوگوں کا بطورنمائندہ انتخاب کیاجولاہوراسلام آبادیا ملتان میں رہتے تھے۔اس کی واضح مثالیں اعجازالحق ،میاں عبدالوحید چوہدری،عبدالستاراورموجودہ ایم این اے جنید انوارہیں۔ یہ لوگ لوکل مسائل کا ادراک کم رکھتے تھےاوراگرمسائل کوجانتے بھی تھے توبھی پوری توجہ حل تلاش کرنے پر نہیں دے سکتے تھے۔1982ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ تحصیل کوضلع کادرجہ دیاگیا۔شہرکی آبادی بہت بڑھ گئی ہے رہائشی علاقوں میں بے شماردکانیں بن گئی ہیں۔ٹائون پلاننگ کا بنیادی اصول کہ رہائشی اور کمرشل علاقے علیحدہ ہوناچاہئیں یہاں بے دردی سے پامال ہواہے۔( بشکریہ:روزنامہ دنیا 19دسمبر2016 ء )

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

استنبول،جہاں مشرق اور مغرب ملتے ہیں

زین ریاض انصاری یہ شہر اس دروازے کی اہمیت کا حامل تھا جس کے ذریعے …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: