Home / مزید / بار بار پیشاب آنے کا مسئلہ

بار بار پیشاب آنے کا مسئلہ

ڈاکٹر آصف محمود جاہ

’’ڈاکٹر صاحب! بڑی مصیبت میں ہوں۔ رات کو بار بار پیشاب آتا ہے۔ ایک دفعہ جانے کے بعد فوراً دوبارہ جانا پڑتا ہے، نیند پوری نہیں ہوتی‘‘۔ زیادہ تر پچاس سال یا اس سے زیادہ عمر کے بوڑھے لوگ ان علامات کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ یہ پراسٹیٹ گلینڈ یا مثانے کے غدود بڑھنے کی علامات ہیں۔پراسٹیٹ گلینڈالٹی کونCone کی شکل میں مثانے کے اوپر ہوتا ہے اور اس کا وزن 8 گرام کے قریب ہے۔ یہ غدود بڑھ کر مثانے پر دبائو ڈالتا ہے، جس سے پیشاب کی تکلیف ہوتی ہے۔ اس کا بڑھنا کسی انفیکشن کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے اور کسی رسولی کی وجہ سے بھی۔ وجوہات:ایک مشہور سرجن کا کہنا ہے کہ ’’جب بال جھڑنا اور سفیدی مائل ہونا شروع ہوتے ہیں، خون کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں، چہرے پہ جھریاں آنے لگتی ہیں، تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جب پراسٹیٹ گلینڈ بڑھ کر مختلف علامات کو جنم دیتا ہے‘‘۔ زیادہ تر مریض 40 سال سے زیادہ عمر کے ہوتے ہیں۔ زیادہ بیٹھ کر کام کرنے والوں میں اس کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ اور بے ہنگم کھانے سے اور موٹاپا کی صورت میں بھی اس کا امکان ہو سکتا ہے۔ پرانی قبض کی وجہ سے یہ گلینڈ بڑھ جاتا ہے۔ علامات: مثانے کے غدود بڑھنے کی بیماری میں بار بار پیشاب آتا ہے۔ خاص طور پر رات کے وقت بار بار پیشاب کرنے کے لیے اٹھنا پڑتا ہے، جس سے بندہ صحیح طور پر سو بھی نہیں سکتا اور طبیعت چڑچڑی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پیشاب تھوڑا تھوڑا آتا ہے۔ صحیح دھار نہیں بنتی۔ بیماری کی شدت میں پیشاب آنا بالکل بند ہو جاتا ہے۔ غدود کا کینسر ہونے کی صورت میں پیشاب میں خون بھی آ سکتا ہے۔ علاج اور بچائو:مثانے کا غدود بڑھنے کی صورت میں اس کا بہترین علاج سرجری کے ذریعے ہوتا ہے،جس میں بیماری زدہ غدود کو نکال دیتے ہیں۔ بیماری سے بچائو کے لیے ضروری ہے کہ کھانے میں اعتدال سے کام لیا جائے، مرغن اور مصالحہ دار غذائوں سے پرہیز کیا جائے تاکہ معدہ اپنا کام صحیح طور پر انجام دے سکے۔ روزانہ کا پروگرام صبح سویرے:صبح سویرے اٹھیں، نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ نہار منہ تین گلاس پانی پی لیں اور صبح کی سیر کے لیے نکل جائیں۔ ہلکی ہلکی ورزش کریں۔ ناشتہ:ناشتے میں فروٹ اور فروٹ جوس کا استعمال کریں۔ اس سے آپ کا نظام ہضم بالکل صحیح رہے گا اور جسم کو مناسب توانائی بھی ملے گی۔ پانی کا استعمال زیادہ کریں۔ اس سے قبض ہونے کا خطرہ جاتا رہے گا۔ دوپہر کا کھانا:دوپہر کے کھانے میں زیادہ تروتازہ سبزیوں کا استعمال کریں۔ سبزی اچھی طرح پکی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ سلاد کا زیادہ استعمال کریں۔ اس سے آپ کے معدے کے افعال درست رہیں گے۔ رات کا کھانا:رات کا کھانا زیادہ ثقیل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے معدہ پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور ساری رات اسے مصروف عمل رہنا پڑتا ہے۔ چائے اور مشروبات:کھانوں کے وقفوں کے دوران زیادہ چائے پینے سے پرہیز کریں۔ سگریٹ کو خیر باد کہیں۔ کیفین والی اشیاء مثلاً کافی اور کولا ڈرنکس سے مکمل طور پر پرہیز کریں۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

ماہرین نے خبردارکردیا…..پاکستان میں پانی کی شدید قلت کاخطرہ ہے

ماہرین نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو پانی کی قلت کا …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: