Home / ادب وثقافت / سہراب مودی…..باکمال ایکٹر،ڈائریکٹراورپروڈیوسر

سہراب مودی…..باکمال ایکٹر،ڈائریکٹراورپروڈیوسر

عبدالحفیظ ظفر

برصغیرپاک و ہند میں یوں تو بے شمار موضوعات پر فلمیں بنائی گئیں اور ان میں سے اکثر نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی۔ دونوں ملکوں میں تاریخی فلمیں بھی بنائی گئیں،جو کچھ تو سپرہٹ ثابت ہوئیں اور کچھ ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ پاکستان میں اگر ایسی فلموں کا جائزہ لیا جائے، تو کئی ایک فلمیں ایسی تھیں جنہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور کئی دوسری فلموں کو حسب ِتوقع کامیابی نہ مل سکی۔ ان فلموں میں ’’حیدر علی، ٹیپو سلطان، انارکلی، تاج محل، ایاز، غرناطہ‘‘ اور کئی دوسری فلموں کا نام لیا جا سکتا ہے۔ہندوستان کی فلمی صنعت میں بڑی مشہور تاریخی فلمیں بنائی گئیں، جن میں ’’مغل اعظم، سکندر، بابر، ہمایوں، شاہ جہاں، عدل جہانگیر‘‘ اور کئی ایک فلمیں قابل ذکر ہیں۔ 2015ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’باجی رائو مستانی‘‘ نے بھی بہت شہرت حاصل کی۔’’ موہنجوداڑو‘‘ بھی زبردست فلم تھی، لیکن یہ فلم باکس آفس پر ناکام ہوگئی۔الغرض تاریخی فلم بنانا کوئی آسان کام نہیں۔ ایک تو اس کا بجٹ بہت زیادہ ہوتا ہے، جو ہر پروڈیوسر کے بس کا روگ نہیں۔ اس کے علاوہ اس کے سکرپٹ کیلئے بہت محنت درکار ہوتی ہے کیونکہ اس میں بہت تحقیق کی ضرورت پڑتی ہے، پھر اداکاروں کا انتخاب بھی سہل نہیں۔ ہر تاریخی کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے اداکار بھی منفرد صلاحیتوں کا حامل ہونا چاہیے۔ اس کے بعد صرف وہ ہدایت کار یہ مشکل کام انجام دے سکتا ہے، جو تاریخی شعور رکھتا ہو اور تاریخی فلم بنانے کے تمام لوازمات سے پوری طرح واقف بھی ہو-ہندوستان میں سہراب مودی کو تاریخی فلمیں بنانے میں ملکہ حاصل تھا۔ انہیں تاریخی فلموں کا رستم بھی کہا جاتا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ تاریخی فلموں کے باوا آدم تھے، تو یہ غلط نہ ہوگا۔2 نومبر 1897ء کو ممبئی میں پیدا ہونے والے اس پارسی ہدایت کار اور اداکار نے تاریخی فلمیں بنانے کا اپنا ایک الگ اسلوب ایجاد کیا۔ انہوں نے سماجی اور قومی مسائل پر بھی بڑی شاندار فلمیں بنائیں۔ سہراب مودی کو شائقین کی طرف سے ہمیشہ زبردست پذیرائی ملی۔ سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ گوالیار میں لوگوں کو چلتی پھرتی فلمیں دکھانے لگے۔ ان کے بھائی لیکی مودی نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ 16 سال کی عمر میں انہوں نے گوالیار میں پروجیکٹر پر فلمیں دکھانا شروع کردیں۔ 26 برس کی عمر میں انہوں نے آریا تھیٹر کمپنی قائم کی۔ انہوں نے پارسی تھیٹراداکار کی حیثیت سے اداکاری کا سفر شروع کیا اور پھر کچھ خاموش فلموں میں بہت مقبولیت حاصل کی اور اپنی تھیٹر کمپنی کے ساتھ پورے ہندوستان کا سفر کیا۔ 1931ء میں جب بولتی فلموں کا آغاز ہوا، تو اس وقت تھیٹر روبہ زوال تھا۔ اس زوال پذیر آرٹ کو بچانے کیلئے سہراب مودی نے 1935ء میں سٹیج فلم کمپنی قائم کی۔ ان کی پہلی دو فلمیں ’’خون کا بدلہ خون‘‘ (1935ئ) شیکسپیئر کے ڈرامے ہیلمٹ سے ماخوذ تھی۔ یہیں سے سائرہ بانو کی والدہ نسیم بانو کا فنی سفر شروع ہوا۔ دوسری فلم بھی شیکسپیئر کے ڈرامے کنگ جون سے ماخوذ تھی۔ یہ دونوں فلمیں فلاپ ہوگئیں۔ 1936ء میں انہوں نے منروا مووی ٹون کا آغاز کیا۔ اب انہوں نے سماجی موضوعات پر فلمیں بنانا شروع کیں۔ ان کی فلم ’’میٹھا زہر‘‘ بہت پسند کی گئی۔ یہ فلم مے نوشی کے خلاف بنائی گئی تھی، اسی طرح 1938ء میں انہوں نے ’’طلاق‘‘ بنائی، یہ بھی باکس آفس پر کامیاب رہی۔ اب سہراب مودی کے ذہن پر تاریخی فلمیں بنانے کا جنون سوار ہوگیا۔ انہوں نے 1939ء میں ’’پکار‘‘ بنائی، یہ شہنشاہ جہانگیر کی انصاف پسندی کی داستان تھی۔ یہ فلم زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس فلم میں چندر موہن اور نسیم بانونے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ اس فلم کے مکالمے بھی انتہائی جاندار تھے، جو کمال امروہی کے زورِ قلم کا نتیجہ تھے۔ ’’پکار‘‘ میں سہراب مودی نے خود بھی ایک کردار ادا کیا تھا اور شائقین فلم سے خوب داد پائی تھی۔ 1941ء میں انہوں نے اپنی سب سے بڑی فلم ’’سکندر‘‘ بنائی۔ پرتھوی راج نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کی مقبولیت کئی عشروں تک قائم رہی۔ اس فلم میں سہراب مودی راجہ پورس کے کردار میں جلوہ گر ہوئے۔ اس فلم میں 326 قبل مسیح کا زمانہ دکھایا گیا ، جب سکندر اعظم فارس اور کابل فتح کر چکا تھا۔ اس فلم کی پروڈکشن لاجواب تھی، لڑائی کے مناظر بھی قابل دید تھے۔ سہراب مودی نے اپنی خداداد صلاحیتوں کا اتنا شاندار مظاہرہ کیا کہ شائقین فلم انگشت بدنداں رہ گئے۔ جب فلم ریلیز ہوئی، تو دوسری جنگ عظیم عروج پر تھی اور ہندوستان میں مہاتما گاندھی کی سول نافرمانی تحریک کی وجہ سے سیاسی ماحول بہت کشیدہ تھا۔ سہراب مودی نے اس فلم کے ذریعے حب الوطنی کے جذبات کو ابھارا۔ اگرچہ ’’سکندر‘‘ کو بمبئے سنسر بورڈ نے پاس کردیاتھا،لیکن چند سینمائوں پر اس فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی۔ ان کی ایک اور فلم ’’پرتھوی ولابھ‘‘ کے ایم منشی کے ناول ’’پرتھوی ولابھ‘‘ سے ماخوذ تھی۔ اس فلم کے انوکھے موضوع نے اسے بہت شہرت دی۔ فلم ’’جیلر‘‘ نے بھی سہراب مودی کے وقار اور عزت میں اضافہ کیا۔ 1940ء میں بننے والی فلم ’’بھروسہ‘‘ بھی چونکا دینے والی تھی۔ 1950ء میں ان کی ایک اور اچھوتی فلم ’’شیش محل‘‘ کو بھی بہت پسند کیا گیا۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ کا تذکرہ ضروری ہے۔ فلم ’’شیش محل‘‘ جس سینما میں دکھائی جا رہی تھی، وہاں ایک شو کے دوران سہراب مودی خود موجود تھے۔ اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ وہ بہت پریشان ہوئے کہ ان کی فلم کی یہ پذیرائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سینما کے ایک ملازم سے کہا کہ اس شخص کو باہر لے جائو اور اسے ٹکٹ کے پیسے واپس کردو۔ چند لمحوں کے بعد وہ ملازم حیرت کی تصویر بنا واپس آیا اور اس نے سہراب مودی کو بتایا کہ وہ ایک اندھا شخص ہے اور وہ صرف سہراب مودی کے ادا کیے ہوئے مکالمے سننے آیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سہراب مودی نہایت تیکھی آوازکے مالک تھے اور ان کے مکالموں کی ادائیگی کا بھی کوئی جواب نہ تھا۔ 1953ء میں سہراب مودی نے’’جھانسی کی رانی‘‘ بنائی ،جو ہندوستان کی پہلی ٹیکنی کلر فلم تھی۔ سہراب مودی نے اس فلم کیلئے ہالی وڈ سے تکنیک کار بلائے تھے۔ مرکزی کردار مہتاب نے ادا کیا تھا، جو ان کی بیوی تھیں۔ ’’جھانسی کی رانی‘‘نے 1957ء کی جنگ آزادی کے دوران انگریزوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے۔ مہتاب کی خیرہ کن اداکاری نے لوگوں کو بہت متاثر کیا،لیکن خلاف توقع یہ فلم باکس آفس پر ناکام ہوگئی، جس سے سہراب مودی کو بہت دکھ پہنچا، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ انہوں نے 1954ء میں ’’مرزا غالبؔ‘‘ جیسی فلم بنائی، جو اس سال کی بہترین فلم قرار پائی۔ اس فلم کو صدارتی ایوارڈ ملا۔اس فلم میں بھارت بھوشن نے مرزا غالبؔ کا کردار ادا کیا تھا جبکہ ثریا ایک رقاصہ کے طور پر جلوہ گر ہوئیں۔ غالبؔ کی غزلیں طلعت محمود اور ثریا نے باکمال انداز میں گائی تھیں، جن کی شہرت آج بھی برقرار ہے۔ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرونے ثریا سے کہا تھا کہ آپ نے غالبؔ کی روح کو زندہ کردیا۔ سہراب مودی کی ایک اور قابل ذکر فلم ’’کندن‘‘ تھی، جو فرانسیسی ناول نگار وکٹرہوگو کے شاہکار ناول لامزرایبل (Lamiserable) سے ماخوذ تھی۔اس کے علاوہ ان کی فلم ’’نوشیرواں عادل‘‘ بھی کامیاب رہی۔ 1980ء میں انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے وہ دسویں فنکار تھے۔ ناقابل فراموش فلمیں بنانے والا یہ انمول فنکار 28 جنوری1984ء کوسرطان کے مرض کی وجہ سے اس جہان ِفانی سے کوچ کر گیا۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

پتھربنا دیا مجھے رونے نہیں دیا…..ناصرکاظمی

پتھربنا دیا مجھے رونے نہیں دیا دامن بھی تیرے غم میں بھگونے نہیں دیا تنہائیاں …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: