Home / ادب وثقافت / کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی….پروین شاکر

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی….پروین شاکر

غزل

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں‌میں‌
میں‌اپنے گھر کے اندھیروں میں‌ لوٹ آؤں گی

بدن کے قرب کو وہ بھی نہ سمجھ پائے گا
میں‌دل میں‌ رؤں گی آنکھوں‌میں‌مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں‌گی کسے مناؤں گی

وہ ایک رشتہ بےنام بھی نہیں‌لیکن
میں‌اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں‌اب بھی تیری آواز سن نہ پاؤں گی

جوازڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں‌اس کو بھول جاؤں گی

(خوشبو سے انتخاب)

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

پتھربنا دیا مجھے رونے نہیں دیا…..ناصرکاظمی

پتھربنا دیا مجھے رونے نہیں دیا دامن بھی تیرے غم میں بھگونے نہیں دیا تنہائیاں …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: