Home / سیاحت / استنبول شہرکادل…استقلال سٹریٹ

استنبول شہرکادل…استقلال سٹریٹ

سلمیٰ اعوان

بیگلوBeyogluکا پرانا نام پیرا تھا۔استنبول کے اس حصے میں رہنے والے زیادہ لوگ یونانی عیسائی اور یہودی تھے اور اب بھی ہیں گویہودیوں کی ایک اکثریت نے اسرائیل بننے کے بعد ہجرت کرلی تھی،مگر بہت سے لوگوںنے نقل مکانی پسند نہ کی کہ اپنے جمے جمائے کاروباروں کو چھوڑ کر نئی جگہوں پر جا کر سیٹ ہونا انہوںنے مشکل سمجھا۔ رخصت ہوکر چلنے لگے کہ چلو گلاتا ٹاور کو دیکھیں،مگر ٹنل پر پہنچ گئے۔معلوم ہوا تھا یہاں دنیا کا شاید دوسرا، مگر قدیم ترین اور مختصر ترین زیر زمین ریلوے ٹریک ہے ۔گولڈن ہارن کے شمالی ساحل پر واقع 573میٹر لمبا جو گلاتا اور پیرا یا ان کے ماڈرن ناموں کیرا کوئے اور بیگلوBeyoglu دو اہم حصوں یا ضلعوں کو ملاتا ہے۔ یہ ایک فرانسیسی انجینئر ہنری گیوندGavand کا کارنامہ ہے، جوکہیں 1875ء میں استنبول کی سیر کیلئے آیا اور جس نے اپنی سیاحت کے دوران ان دونوں حصوں کے درمیان سفر کرتے لوگوں کو ہچکولے کھاتے اور ایک دوسرے پر گرتے دیکھا۔ دراصل کیرا کوئے یعنی گلاتا سطح سمندر سے جڑاہوا ایک طرح ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔بگلیوBeyoglu یعنی پیرا اُونچائی پر ہونے کی وجہ سے رہائش کیلئے زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا۔اس نے لوگوں کو اس تکلیف سے نجات دینے کا سوچا ۔اپنی تجویز کو وہ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالعزیز کے پاس لے گیا،جس نے تفصیلات سن کر پراجیکٹ کی منظوری دی۔ درمیان میں بہت سے مسائل حائل ہوئے، تاہم ایک نیک نیت منصوبہ تکمیل پر پہنچ کر لوگوں کی سہولت کا باعث بنا۔ دومنٹ کا سفر۔بندے کے سفری شوق کا حلق تالو بھی نہ گیلا ہو اور منزل آجائے۔زیرزمین اسٹیشن بہت خوبصورت تھے۔ آرٹ کے شاہکاروں سے سجے۔ ہم نے بھی بے اختیار سوچا ۔بلاشبہ اُس نے پیسہ ضرور کمایا ہوگا،مگر سوچ اور نیت کیسی خالص تھی !۔ استقلال سٹریٹ کوپہلی بار دیکھ کر تو جیسے بھونچکارہ جانے والی بات تھی۔بٹر بٹر تکتے تھے۔دودھیا روشنی دروازوں سے ،کھڑکیوں کے شیشوں سے یوں پھوٹ پھوٹ کر باہر لپکتی تھیں کہ جیسے اندر آتش فشاں پھٹ پڑے ہوں۔فضائوں میں نظریں ڈالنے سے لگتا تھا جیسے ستاروں سے سجا آسمان اپنی قوس قزح کے ساتھ استقلال سٹریٹ پر اُتر آیا ہے۔نیلے،پیلے،سبز رنگ جیسے مہتابیاں چھوٹ رہی ہوں۔پھلجڑیاں رقصاں ہوں۔ خوبصورت انسانی چہرے پل بھر کیلئے لشکارے مارتے ،عریاں حسن کے نظارے آنکھوں کو پھیلاتے، گرماتے اور پل جھپکتے میں کہیںاوجھل ہوجاتے۔دو حسین چہرے اور قیامت جیسے جسم کہیں سگریٹ کے مرغولوں میں چکریاں کھاتے کھاتے سامنے آئے اور پھر غائب ہوگئے۔اب پینڈو آنکھیں ہجوم میں ان کی تلاش میں سرگرداں،پھر یہ کوشش کہ کوئی اور ایسا ہی حسین منظر گرفت میںآئے۔ نیون سائن جل بُجھ جل بُجھ میں ہی اُلجھے ہوئے تھے۔ہجوم روشنیوں میں نہاتاشاہراہ کے سینے پر کسی پھڑکتے دل میں ہلچل مچاتے گیت کی طرح رواں دواں تھا۔( سفر نامہ’’ استنبول کہ عالم میں منتخب‘‘)

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

استنبول،جہاں مشرق اور مغرب ملتے ہیں

زین ریاض انصاری یہ شہر اس دروازے کی اہمیت کا حامل تھا جس کے ذریعے …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: