Home / خواتین کارنر / ’’خو شبو‘‘کی شاعرہ…پروین شاکر

’’خو شبو‘‘کی شاعرہ…پروین شاکر

ابو الہاشم کرمانی

ماہِ دسمبر کے آخری عشرے میں بائیس برس قبل 26 دسمبر 1994ء کوایک اندوہناک خبرملی کہ پروین شاکر ایک ٹریفک حادثہ کے باعث اس دنیا سے چل بسیں ہیں،تاہم آج اتنے برس بیت جانے کے باوجود تتلی کے پروں جیسی نازک مزاج پروین شاکرکاکلام اُن کے موجود ہونے کااحساس دلارہاہے۔بقول پروین شاکر: مر بھی جائوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے لفظ میرے ہونے کی گواہی دیں گے اُردو ادب اس کی مثال لا نے سے قاصرہے۔بچپن میں وہ خاصی شریر تھی، مگرجب وہ 16 بر س کی عمرکو پہنچی، تو کسی رانجھے نے اسے خدا کا در جہ دے دیا۔اتنا چا ہا کہ وہ سرا پا چا ہت بن گئی اوراب اس کے بعد اس کی آنکھوں میں ایسی اُداسی بسی،جومر تے دَم تک اس کی پہچان بن گئی۔جب اس نے اس چاہت کا ذکراپنی اُستادعرفانہ عزیزسے کیا،جواسے اپنی (Extention) قرار دیتی ہیں،تو انہوں نے کہا کہ تمہاری نسبت طے ہے مگرپھر بھی ’’خوشبو‘‘ وجود میں آگئی اور پیار کرنے والوں کے لیے’’ خو شبو‘‘ کاتحفہ دیناایک رواج کی حیثیت اختیارکر گیا اور احمد ندیم قاسمی سے لے کرقر ۃالعین تک تمام ہی مشاہر نے اس کی شاعری کو سر آنکھو ںپر رکھا۔ جب اس کی اُستاد عر فا نہ عزیز کینیڈا جا بسیں، تو اس کے فن کی نگہداری احمد ندیم قاسمی نے کی ،جنہیںوہ عمو جا ن کہاکر تی تھی ۔اپنی پہلی کتاب کا انتساب بھی اس نے اُنہی کے نام لکھا او روہ بھی اسے اپنی بیٹیوں کی طرح چاہتے تھے جبکہ پر وین نے ہمیشہ یہی کہا کہ وہ منصورہ اور ناہید کی طرح قا سمی صاحب کی خدمت نہ کر سکی ۔ پروین اپنے فن سے ہٹ کر اپنی ذاتی زندگی میں بھی سچائی کے ساتھ زندہ رہنے والی شخصیت تھی۔جب کچھ اسلام آبادیوں نے اس کی شہرت کو نقصان پہچا نا چا ہا ،تو وہ ذرا نہ گھبرائی اور تن تنہا حالات کا مقابلہ کیا ۔بقول ِضمیرجعفری ’’وہ اُردو شاعری کی رانی جھا نسی تھی، جس نے زندگی کی آنکھو ں میں آنکھیں ڈال کر زندگی کی اور شا ید ہی کو ئی سچ ہے، جسے اس نے اپنے شعروں میں نہ پرویا ہو‘‘۔ پروین کے بے شمار اشعار زبان زد عام ہیں: تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی اور تیری بزم سے اب کوئی اُٹھا چاہتا ہے ……… موت وہ ساقی کہ جس کے کبھی تھکتے نہیں ہاتھ بھرتی جائے گی وہ اک جام صدا جام کے بعد پروین نے زندگی ہی تنہا نہیں کی بلکہ اپنے بیٹے کو بھی ایک ( parent Single)بن کرپا لا اور کئی بار اس دکھ کا اظہار کیا کہ اسے زندگی کی اس نا کامی پرانتہا ئی رنج ہے ۔ پر وین کی شادی ڈاکٹر نصیر احمد سے ہوئی اور مو ت سے کچھ عر صہ قبل ان دونوں کے در میان علیحدگی ہوگئی۔پروین کی زندگی کی واحد خو شی اس کا بیٹامرا د تھا، جس کے مستقبل کی تشویش میں وہ ہر وقت مبتلا رہتی تھی اور خدا سے اس کی ایک ہی دعا تھی کہ وہ اسے اتنی مہلت دے کہ مراد کو اس کے پیروں پر کھڑا دیکھ سکے، جب وہ حادثاتی موت کا شکا ر ہو ئی، تو مراد محض 15بر س کا تھا او رنیورو سر جن بننا چا ہتا تھا۔ ایک بار اس نے از راہِ مذاق کہا تھا کہ میں مراد سے کہتی ہوں تمہا را ایک مریض تو گھر میںمو جو د ہے ۔جب کسی نے اس سے در یا فت کیا کہ اگر آپ شا عرہ نہ ہو تیں، تو کیا ہو تیں؟ اس کے جو ا ب میں پر وین نے کہا تھا کہ اپنے آپ کو صر ف شا عرہ ہی کہلو ا نا پسند کر تی ہوں او رہر جنم میں شا عرہ ہی ہو تیں۔ اس جنم جنم کی شا عرہ کے بارے میں امجد اسلام امجد کہتے ہیںکہ ’’اس سے قبل بھی اُردو شعر کو مہکا نے والی کئی توا نا آوازیں تھیں، مگر پٹنہ کی اس دھا ن پا ن سی لڑ کی نے وہ دھو م مچا ئی کہ دنیائے ادب میں ابتدا ہی سے وہ ایک الگ شناخت کے ساتھ اُبھر کر سامنے آئی ۔اس نے شاعری اس وقت شروع کی جب وہ محض 16 برس کی تھی۔ اس لیے سو لہوا ں سال اس کی زندگی میں ایک موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جب وہ محبت کے ذائقوں سے آشنا ہوئی اوراس نے لکھا: ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں پر وین کی شاعری کو پڑھتے ہو ئے ایسا لگتا ہے، جیسے آپ زینہ زینہ اس کی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں بالخصوص ’’خو شبو‘‘ کی شاعری میں پر وین کا کلا م یوں دکھائی دیتا ہے جیسے مو تیوں کی لڑی میں پر وئی ہو ئی کو ئی مالا جس کا حسن دیکھ کر کبھی لکھنے والے کے ہاتھ چومنے کو جی چا ہے، کبھی اس کلا م کو سر مہ چشم بنا نے کو جی چا ہے: دل پہ یکطرفہ قیامت کرنا مسکراتے ہوئے رخصت کرنا اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اس کو کچھ تو لازم ہوا وحشت کرنا جرم کس کا تھا سزا کس کو ملی کیا گئی بات پہ حجت کرنا کون چا ہے گا تمہیں میری طرح اب کسی سے نہ محبت کرنا گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے وقت مل جائے تو زحمت کرنا پر وین نے تمام ہی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی، مگر غزل اس کے کلام کا اصل حسن ہے، جس کے بارے میں فیضؔ صاحب نے کہا تھا کہ’’ ہم نے ساری زندگی میں اتنی غزلیں نہیں لکھیں، جتنی پر وین کے ایک دیوان میں شامل ہیں ‘‘ فیضؔ صاحب کی بات کے جواب میں صادقین نے کہا تھا کہ ’’پروین زیادہ لکھتی اور اچھا لکھتی ہے ‘‘۔ صا دقین نے ہی پروین کے پہلے مجموعہ کلام کا سر ورق بنا یا تھا۔ اگر ہم بات کریں پروین کی غزلوں کے ارتقاپر تو خو شبو سے لے کر کف ِ آئینہ تک پر وین نے جس طرح جذبوں کی تہذیب کی ،وہیں اس کے کلام میں بھی یہی رنگ جھلکتا ہے، مگر ایک بات قابل ِتو جہ ہے کہ اس نے نو عمری میں بھی پختہ غزل لکھی۔ ا س کی معروف غزلوں کی بابت تو سب ہی جانتے ہیں، مگر کچھ غزلیں اب بھی ایسی ہیں ،جو اتنی پذیرائی نہیں حاصل کرسکیں، جتنا ان کا حق تھا ،’’خوشبو ‘‘کی ایک غزل ہے: دھنک دھنک میری پوروں کو خواب کر دے گا وہ لمس میر ے بدن کو گلاب کر دے گا قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں بدن کو نائو لہو کو چناب کر دے گا میری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا پر وین پر ایک حلقے نے انگریزی ادب کی ممتاز شاعرہ ایملی ڈکسن کے کلا م کی نقا لی الزام تو لگا یا، مگر کو ئی بھی مثال پیش کر نے سے ناکام رہا ،با وجو د اس کے کہ وہ انگریزی ادب کی طالبہ رہ چکی تھی۔ اس نے ہمیشہ ہر شعر کو اپنے دل کی گہرا ئی سے تخلیق کیا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پر وین نے جدیدیت اور کلا سیکیت کا حسین امتزاج اپنی شاعری میںپیش کیا۔اُردو ادب میں ادا جعفری ، زہرا نگاہ،فہمیدہ ریاض اور کشور نا ہید کا چر چا تھا کہ پر وین نمو دار ہو ئی اور سا را منظر ہی بدل گیا، اگرچہ بہت سے کا نٹے اوّل الذکر شاعرات نے اپنی پلکوں سے چن لیے تھے،پھر بھی پر وین کے والہا نہ اظہار کو بہت مزاحمت کا سا منا رہا، مگر اس نے بھی ٹھا ن لی تھی کیو نکہ: چھو کر ہی آئیں منزلِ اُمید ہاتھ سے کیا گھر کو لوٹنا ہو کہ جب پائوں چھل چکا.

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

سردی کا مقابلہ،خوراک سے

مریم اقبال وڑائچ یہ سردی کا موسم ہے۔خشک سردی پڑرہی ہے۔بارشیں نہ ہونے کی وجہ …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: