Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
ٹیکسالی دروازہ - Lahori
Home / تاریخ / ٹیکسالی دروازہ

ٹیکسالی دروازہ

ٹیکسالی دروازہ کے شمال میں ایک ٹیکسال ہوا کرتی تھی۔یہاں ایک عالیشان مکان میں شاہی خزانے کے لیے مہریں اور سکے ڈھالے جاتے تھےاسی لیے اس کانام ٹیکسالی دروازہ پڑ گیا۔صوفی بزرگ شاہ حسین لاہوری رحمۃ اللہ علیہ 1539ء میں شیخ عثمان کے گھرٹیکسالی دروازے کے علاقے میں پیداہوئے۔حضرت شاہ حسین کی بیٹھک اب بھی موجودہے جہاں استاددامن اپنی زندگی کے آخری ایام تک مقیم رہے.
اصل دروازہ کے آثارمعدوم ہوچکے ہیں۔بعض روایات کے مطابق یہاں سکھ حکومت کے ہندوڈوگراوزیراعظم دھیان سنگھ کے بیٹے ہیراسنگھ کی حویلی تھی.ہیراسنگھ مہاراجارنجیت کا منہ بولا بیٹا بناہواتھا۔اپنے باپ دھیان سنگھ کی موت کے بعد وہ وزیر اعظم کےعہدےپرفائزہوا۔اس کی حویلی اورنام کی مناسبت سے شہرکایہ حصہ ہیرامنڈی کہلانےلگا۔
لاہور کاپرانابازارِحسن یاہیرامنڈی اس دروازے کے قریب واقع ہے۔برطانوی راج کے دوران برطانوی فوجیوں کی تفریح ​​کے لئے پرانی انارکلی بازار میں بالاخانے تیار کیے گئے۔ اس کے بعد انہیں لوہاری دروازہ اورپھرٹیکسالی دروازہ پرمنتقل کردیاگیا۔بعدازاں انہیں موجودہ ہیرا منڈی کے مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ٹیکسالی دورازے کے متعلق مورخ کنہیالال’’تاریخ لاہور‘‘میں لکھتے ہیں:’’شاہان سلف کے عہد میں اس دروازے کے اندرون شمالی میدان میں دارالضرب شاہی ایک عالی شان مکان بناہواتھااوراسی جگہ ہرایک کا سکہ مسکوک و مضروب ہوتاتھا.اس ٹیکسال کے سبب سے اس کانام ٹکسالی دروازہ مشہورہوا۔اب اگرچہ انقلاب زمانہ نے اس ٹیکسال کی بیخ و بنیاد باقی نہیں چھوڑی مگر بقیہ حصہ مسجد ٹیکسالی کاباقی ہے جس کے دیکھنے سے ثابت ہوتاہے کہ کسی زمانے میں کانسی کارعمدہ مسجد بنی ہو گی۔‘‘
ڈاکٹرغافرشہزاداپنی کتاب’’لاہور،گھر گلیاں دروازے‘‘میں رقمطرازہیں:ایک اورخیال کے مطابق،چونکہ یہ دروازہ ٹیکسلا کی جانب کھلتا تھا،اسی لیے اس کا نام ٹیکسالی دروازہ مشہورہوا۔دارالضرب کی تعمیرکروائی تھی۔ٹیکسالی دروازے کی بائیں جانب کھلی جگہ پرعہد انگریزی میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال تعمیرکیاگیاجوبادشاہی مسجد کی غربی جانب واقع ہے۔شہر پناہ کی غربی جانب واقع سرکلرگارڈن نسبتاً کم تجاوزات کی زدمیں ہے اوراسی باغ کے بالمقابل سرکلرروڈ کی دوسری جانب گوراقبرستان اورحضرت پیرمکی رحمۃ اللہ علیہ کا دربارہے۔
ٹیکسالی دروازے کے اندرداخل ہوں تو آگے چل کردائیں ہاتھ ٹبی محلہ آجاتاہے جبکہ بائیں جانب قدرے ہٹ کرتکیہ صابرشاہ ولی ہے جہاں مسجد و مزار موجودہے۔مزارسطح زمین سے دس گیارہ فٹ بلندپلیٹ فارم پرواقع ہے۔1996ء میں آتشزدگی سے مزارکونقصان پہنچااورپھراس کی تعمیرنو کی گئی۔ تکیہ کے احاطے میں ہی بادشاہی مسجد کے خطیب مولاناعبدالقادر آزاد کی رہائش گاہ ہے۔
ٹیکسالی دروازے سے راستہ شاہی محلے اورنخاس منڈی سے گزرتاہواقلعے کے ساتھ ساتھ مستی دروازے تک جاپہنچتا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ سڑک قلعہ اورشہرقدیم کوعلیحدہ بھی کرتی ہے۔آبادی اورتجارتی مرکزہردو لحاظ سے یہ علاقہ کم آباد ہے۔
بیرون ٹیکسالی دروازہ دربار حضرت سید عبدالرزاق المعروف’’بابا بندھو شاہ‘‘ ہے جن کا سن وصال 1974ء ہے۔دربارسے ملحقہ بہت قدیمی پیپل کادرخت ہے۔یہیں پاس ہی تانگوں کااڈہ اورگھوڑوں کے پانی پینے کے لیے حوض بھی موجودہے۔
بیرون ٹکسالی دروازہ زیادہ تر گرم حمام و حجام کی دکانیں ہیں۔اندرون ٹیکسالی دروازہ حکیم فضل الٰہی مرحوم کا دواخانہ’’چشمہ حیات‘‘ کے نام سے آج بھی قائم ہے،جہاں عرقیات،مربہ جات،مرکبات ودیگرنسخہ جات مل جاتے ہیں جو اس دروازے کی پہچان ہیں۔ بیرون ٹیکسالی دروازہ واسا کا ٹیوب ویل اور کارپوریشن کے ٹائیلٹ سرکلرگارڈن میں تعمیر کیے گئے ہیں۔اندرون ٹکسالی کھسہ جات، کوہاٹی چپل و دیگر جوتے فروخت کیے جاتے ہیں۔
اندرون ٹیکسالی دروازہ قدیمی ٹیکسالی مسجد آج بھی موجود ہے جس کی زیریں منزل پر جوتوں کی دکانیں ہیں اور اس سے ملحقہ شادی بیاہ کے لیے بگھیوں کی درجن بھردُکانیں ہیں۔ یہاں سے آٹھ گھوڑوں والی بگھیاں مل جاتی ہیں.اس کے علاوہ پالکی،ڈولی بھی مل جاتی ہے۔یہاں میوزک گروپس وبینڈ والے بھی موجود ہیں جوشادی بیاہ کی تقریبات کے لیے سازوآوازکی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
قدیمی ٹیکسالی مسجد کی جنوبی دیوارجو بازار کی جانب ہے، وہاں کاشی ٹائلز و ٹیراکوٹا جالی کے خوبصورت کام کے شواہد ملتے ہیں۔مسجد کی زیریں منزل پرکھوکھے ہیں جن سے محکمہ اوقاف کرایہ وصول کرتا ہے۔اس دروازے پر ایک مشہور جوتوں کا بازار ٰشیخوپوریاں بازارٰ واقعہ ہے۔یہاں کے لوگ بھی کھانے پینے کے بہت شوقین ہیں۔مشہور پھجے کے سری پائے،اورتاج محل مٹھائی کی دکان اس دروازے کی پہچان ہے۔بازارکولگنے والی مرکزی شاہراہ والڈ سٹی فوڈ اسٹریٹ بن چکی ہے۔معروف مصنف اے حمید کے داداٹیکسالی دروازے کے رہنے والے تھے.

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

Ram Thaman

گائوں رام تھمن

گائوں رام تھمن رائے ونڈ کے بیچ راجہ جنگ ریلوے اسٹیشن سے پانچ کلومیٹر کے …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: