Home / مزید / ڈینگی بخارکاموثرعلاج….شربت پپیتہ

ڈینگی بخارکاموثرعلاج….شربت پپیتہ

ڈاکٹر آصف محمود جاہ

ڈینگی وائرس پھیلانے والا مادہ مچھر بڑا صفائی پسند ہے اور صاف پانی میں رہتا ہے۔ طلوع آفتاب کے وقت اور شام کو غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتا ہے۔ زیادہ بڑے گھروں میں رہنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ عالمی اداررہ صحت (WHO) کے مطابق سالانہ 50 ملین افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں اور ان میں ہر سال 20 ہزار سے زائد لوگ اِس کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ڈینگی وائرس کی روک تھام کے لیے ابھی کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی، اس لیے سائنس دان سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی پیش رفت نارتھ کیرولیناسٹیٹ یونیورسٹی نے کی ہے، جس میں خاص بیکٹیریا Wolbateria Bacterium کو مادہ مچھر کے جسم میں داخل کیا جائے گا، جس سے وہ وائرس آگے منتقل کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ مقامی طور پر ڈینگی کے علاج کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے تحت چلنے والا فلاحی ہسپتال میں ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں کا جوس نکال کر اس میں چند دوسری مفید جڑی بوٹیاں شامل کر کے ’’شربت پپیتہ‘‘ تیار کیا گیا ہے۔ پپیتہ کے پتے ڈینگی کا بخار ختم کرنے، جسم میں مدافعت پیدا کرنے اور بیماری کی حالت میں خون کی ’’پلیٹلٹس کی مقدار‘‘ نارمل رکھنے میں بے حد کارآمد ہیں۔قدرت نے ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں میں بے پناہ صلاحیت رکھی ہے، ڈینگی سے بچائو اور علاج کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مچھر دانیوں کو پپیتہ کے پتوں میں بھگو کر تیار کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے پتے بیماری سے بچائو اور علاج کے ساتھ مچھروں کو دور بھگاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جن گھروں کے لانوں میں پپیتہ کے درخت لگے ہوئے ہیں، ڈینگی پھیلانے والے مچھر وہاں سے دور بھاگتے ہیں۔ مزید برأں مچھروں سے بچائو کے لیے پپیتہ کے پتوں سے تیار کردہ Repellents بھی بنائے گئے ہیں۔ پپیتہ کے پتوں میں ایک انزائم ’’پاپین‘‘ پایا جاتا ہے، جس میں 212 امائنو ایسڈ ہوتے ہیں۔ یہ انزائم جسم میں داخل ہو کر ڈینگی وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے، جس سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وائرس کے ختم ہونے سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار بھی نارمل ہو جاتی ہے۔ امائنو ایسڈ کے علاوہ پپیتہ کے پتوں میں وٹامن اے، سی، ای، کے، بی کمپلیکس اور بی 17 بھی پایا جاتا ہے۔ان پتوں میں موجود فائٹو کیمیکل جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ جسم میں مدافعتی نظام مضبوط ہونے کے باعث جسم میں داخل ہونے والا وائرس زیادہ پیچیدگیاں نہیں پھیلا سکتا۔ اس کے علاوہ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں میں موجود ’’پاپین‘‘ میں اینٹی وائرل خصوصیات موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ’’پاپین‘‘ کا استعمال دوسری بیماریوں جوڑوں کے درد، السر، جسم میں سوجن اور کینسر کی بیماریوں میں بھی مفید ہوتا ہے۔ پپیتہ کے پتوں میں شامل امائنو ایسڈ، معدنیات اور دوسرے قدرتی اجزاء جسم میں قوت پیدا کرتے ہیں اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔ اس میں شامل وٹامن چہرے کی جھریوں کو بھی کم کرتے ہیں۔ پپیتہ کے پتوں میں موجود فائٹو کیمیکل خون میں شامل ہو کر نہ صرف جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ خون میں اِن کے شامل ہونے سے ایسے کیمیائی اجزاء اینٹی باڈیز پیدا ہوتی ہے ،جو ڈینگی وائرس پر حملہ کر کے اس کو غیر موثر بنا دیتی ہے۔ 2011ء میں ڈینگی کے خلاف شربت پپیتہ کا وسیع پیمانے پر ا ستعمال کیا گیا۔ لاہور میں ہزاروں لوگ اس شربت کی بدولت شفایاب ہوئے اور ہزاروں ڈینگی سے محفوظ رہے۔ ڈینگی کی وباء کے دوران لاہور کے سارے ہسپتالوں سے شربت پپیتہ کی ڈیمانڈ آ رہی تھی۔ پورے ملک میں شربت پپیتہ بھیجا گیا اور اس کا استعمال کرنے والے ڈینگی کے حملے سے محفوظ رہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے سے ڈینگی نے سوات اور مضافاتی علاقوں میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔ 5000 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں اور اب تک اس سے 24 اموات ہو چکی ہیں۔سوات میں ہمارے میڈیکل سنٹر میں ڈینگی کے سینکڑوں مریضوں کا شربت پپیتہ سے علاج کیا گیا جن میں سے اکثر الحمدللہ شفایاب ہو چکے ہیں۔ ڈینگی بخار کے علاج اور اس سے بچائو کے لیے شربت پپیتہ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے فلاحی ہسپتال -449 جہاں زیب بلاک علامہ اقبال ٹائون لاہور سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

حادثات سے محفوظ گاڑیاں

جمیل اختر سڑک پر زیادہ تر حادثات ڈرائیور کی غلطی یا لاپرواہی سے ہوتے ہیں۔ …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: