Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
انار کلی کا مقبرہ - Lahori
Home / تاریخ / انار کلی کا مقبرہ

انار کلی کا مقبرہ

مغلوں نے 1526ء سے 1700ء تک ہندوستان میں حکومت قائم رکھی۔ جب برطانیہ نے یہاں قبضہ جمایاتو مغلوں کے بارے میں بہت سے واقعات تاریخ کے اوراق کا حصہ بنے۔ جن میں سے بیش تر حالات مغل بادشاہوں کے اپنے قلم سے نوشتہ ہیں۔ مغلوں نے اپنے راج میں تہذیب وثقافت، فن تعمیر، ادب و موسیقی کی صورت میں انمٹ نقوش چھوڑے ۔محبت کا افسانہ انارکلی بھی مغل شہزادے سلیم سے منسوب کیا جاتا ہے جس نے آج بھی لوگوں کے دل ودماغ کو گرفتہ کررکھا ہے۔ بعض مورخین توواشگاف الفاظ میں انارکلی کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں وہ بھی انارکلی کی موت کے بارے میں خاموش ہیں۔ اس سلسلے میں جوکہانی عمومی طورپر بیان کی جاتی ہے ، اس کے مطابق دربارِ اکبری میں انار کلی نام کی ایک کنیز تھی ، سولہویں صدی میں برطانوی سیاح ولیم فنچ اور ایڈورڈیٹری نے اسے اکبر کی بیوی قرار دیا ہے۔ اکبر نے مرتے ہوئے آئینہ میں اپنے بیٹے سلیم کی انارکلی کے ساتھ مسکراتے ہوئے ایک جھلک دیکھی۔ سلیم جوبعدازاں جہانگیر کے نام سے تخت نشین ہوا، انارکلی کی محبت میں گرفتار ہوچکا تھا۔ 1892ء میں سید محمد لطیف نے اس کہانی کو حقیقت کے طورپر بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ انارکلی کو نادرہ بیگم یا مشرف النساء کا خطاب دیا گیا تھا جو اکبر کے حرم میں داخل ایک کنیز تھی۔ ایک دن جب اکبر شیشوں سے مزین کمرے میں موجود تھا اور جوان و خوبصورت کنیز انارکلی اس کے ہمراہ تھی توشاہِ ہندوستان نے شیشے میں دیکھا کہ انارکلی شہزادہ سلیم کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ اسے شک گزرا کہ شہزادہ سلیم اور انارکلی کے درمیان محبت کا تعلق استوار ہوچکا ہے، لہٰذا اس نے سزا کے طورپرانارکلی کو زندہ دیوار میں چنوانے کا حکم دیا۔ سلیم کو اس کی موت کا افسوس ہوا تو اس نے اس جگہ پر ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کرایا۔ سید لطیف لکھتا ہے ! ’’عظیم الشان سفید مثمن ہشت پہلو مقبرہ تعمیر کرایا گیا جو آج بھی اپنے برجوں کے ساتھ پنجاب کے سول سیکرٹریٹ میں موجود ہے۔ افتادِ زمانہ کے باعث مقبرہ کے وسط کی بجائے قبر کا تعویذ ایک سمت پڑا ہے جس پر دوتاریخیں ابھرواں انداز میں یوں درج ہیں۔ 1599ء اور 1615ء ،اغلباً انارکلی کے مرنے کی تاریخ 1599ء جب کہ 1615ء مقبرہ کی تعمیر کی تاریخ ہوسکتی ہے۔ جہانگیر نے بادشاہ بننے کے دس سال بعد یعنی 1615ء میں مقبرہ کی تعمیر کرائی ہوگی۔ سکھوں نے اپنے عہد میں اس مقبرے کو خاصا نقصان پہنچایا۔ مقبرے کی بنیادیں خشتی اور چبوترہ سنگ مرمر کا تھا جو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اکھاڑ دیا۔ قبر کے تعویز پر 99اسما الٰہی اور اشعار درج ہیں۔ انگریزی دور میں اس عمارت کو گرجا میں تبدیل کردیا گیا اور اس کا نام سینٹ جین چرچ رکھ دیا گیا۔ اب اس عمارت کو ریکارڈ آفس کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کے مطابق یہ مقبرہ جہانگیر کی بیوی صاحب جمال کا ہے۔ قبر کے تعویز پر مندرجہ ذیل عبارت درج ہے: آہ گرھن بازنیم روی یارخویش را تاقیامت شکرگویم کردگار خویش را مجنوں سلیم اکبر 1008ہزاردہشت کتبات قبور کے لحاظ سے لاہور میں یہ خوبصورت نستعلیق کی ابھروں انداز میں بہترین مثال ہے۔ اس میں الفاظ سنگ مرمر کے ایک ہی ٹکڑے پر انتہائی چابکدستی میں کتابت کیے گئے ہیں اور اللہ اکبر لکھا گیا ہے۔ 1642ء میں داراشکوہ نے سفینۃ الاولیا ء تصنیف کی جس میں انارکلی کے مقبرہ اور باغ کے بارے میں لکھا مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقبرے میں کون مدفون ہے ۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کا بیان اس ضمن میں درست لگتا ہے کہ یہ مقبرہ جہانگیر کی چوتھی بیوی صاحب جمال کا ہے جو 1599ء میں لاہور میں فوت ہوئی جو مزار پر کندہ ہے۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

Ram Thaman

گائوں رام تھمن

گائوں رام تھمن رائے ونڈ کے بیچ راجہ جنگ ریلوے اسٹیشن سے پانچ کلومیٹر کے …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: