Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
انٹر نیٹ بند ہونے سے پوری دنیاکی مارکیٹیں کریش کر جائینگی....خطرناک خبر - Lahori
Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / انٹر نیٹ بند ہونے سے پوری دنیاکی مارکیٹیں کریش کر جائینگی….خطرناک خبر

انٹر نیٹ بند ہونے سے پوری دنیاکی مارکیٹیں کریش کر جائینگی….خطرناک خبر

امریکا کی سیکیورٹی انٹیلی جنس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2017 میں پوری دنیا میں انٹرنیٹ بند ہوسکتا ہے جس کے بعد پورے 24 گھنٹے کے لیے دنیا کے مختلف حصوں کا رابطہ ایک دوسرے سے منقطع ہوجائے گا۔انٹیلی جنس کمپنی لوگرتھم کے نائب صدر جیمز کارڈر کا کہنا ہے کہ یہ انٹرنیٹ میں معمولی تعطل یا خرابی جیسا نہیں ہوگا۔ یہ بہت بڑے پیمانے پر سائبر حملے جیسا ہوگا۔انہوں نے متنبہ کیا کہ سنہ 2017 میں ہمیں کبھی بھی کسی بھی دن اس صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر انٹرنیٹ بند ہوگیا تو اس سے معاشی مارکیٹوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ادارے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے اس دعوے کی بنیاد وہ ثبوت ہیں جو انہیں 2016 میں ملے کہ سائبر جرائم پیشہ افراد اور گروہ ایسے میزائلوں کی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں جو سمندر میں انٹرنیٹ کی کیبل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال متعدد بار ایسا ہوا کہ انٹرنیٹ کی مختلف سائٹس کچھ دیر کے لیے بند ہوگئیں تاہم 2017 کا متوقع سائبر حملہ بہت بڑے پیمانے پر پورے 24 گھنٹے کے لیے ہوگا۔واضح رہے کہ رواں سال ہیکرز کے حملوں کے بعد نہ صرف سماجی رابطوں کی کئی سائٹس بند ہوگئی تھیں بلکہ یاہو کے کروڑوں صارفین کے اکاؤنٹس بھی ہیک کرلیے گئے تھے۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

بغیر چشمے کے تھری ڈی کا مزہ

آج ہمارا واسطہ زیادہ سے زیادہ تھری ڈی مواد سے پڑ رہا ہے، گھر میں …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: