Home / شخصیات / موسیقارماسٹرمنظورحسین

موسیقارماسٹرمنظورحسین

اکمل شہزاد گھمن

لازوال دھنوں کے خالق ماسٹر منظور 24دسمبر 2012ء کو وفات پاگئے مگر وہ اپنے منفرد کام کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ وہ 25دسمبر 1930ء کو شاہ عالمی لاہور میں پیدا ہوئے۔ اتفاق دیکھیے کہ 25دسمبر کو ہی عین 82برس بعد انہیں لحد میں اتار اگیا۔ ماسٹر منظور نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد فضل حسین سے حاصل کی۔ بعدازاں انہوں نے طبلے کی بھی باقاعدہ تعلیم میاں کریم اور میاں عاشق گلی وال سے حاصل کی ان کا ننھیال طبلے میں بہت بڑا استاد گھرانہ تھا۔ بعدازاں انہوں نے عہد ساز گویے امید علی خاں جنہیں بڑے غلام علی خاں کا ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے سے کسب ِفیض حاصل کیا۔ وہ امید علی خاں کا باقاعدہ شاگرد ہونے کے لیے بھی گئے مگر خاں صاحب نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کو شاگرد نہیں کرسکتا۔ ماسٹر منظور کو 1959ء میں ریلیز ہونے والی فلم سویرا نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ جس کے تمام گانے بہت مشہور ہوئے۔ مگر ایس بی جون کا گایا ہوا گانا ’’ تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے‘‘ آج زبان زدِ خاص وعام ہے۔ اس فلم کے گیت نامور نغمہ نگار فیاض ہاشمی نے لکھے تھے۔ ماسٹر منظور نے پانچ فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی جن میں سویرا ،پیار کی صدا، جگنواور زندگی کے میلے شامل ہیں۔ فلم انڈسٹری میں زیادہ کام نہ کرنے کی وجہ وہ یہ بتاتے تھے کہ ’’میں ناسمجھ سرمایہ داروں کی بات نہیں مانتا تھا‘‘ اور کچھ فلم والوں نے بھی مجھے مہنگا تصور کرلیا۔ ماسٹر صاحب مشکل طبیعت کے آدمی تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ حالات ہمیشہ انسان کو کمزور کرتے ہیں، اس لیے میں کبھی حالات کا محتاج نہیں ہوا۔ ماسٹر صاحب سامنے بات کرنے کی جرأت رکھتے تھے ۔جس کا انہیں خمیازہ کم کام ملنے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ مگر وہ اپنے اس رویے سے نہایت مطمئن تھے ۔اس حوالے سے ان کے کئی واقعات بھی مشہور ہیں۔ایک واقعہ نورجہاں کے حوالے سے بھی ہے۔ دراصل وہ سمجھتے تھے کہ نورجہاں جب بے بی نورجہاں تھیں ،انہوں نے بہت اچھا گایا بعدمیں ان کے سُر کا گراف گرچکا تھا۔ماسٹر منظور نے اپنے وقت کے تقریباً تمام نامور گلوکاروں کے لئے دھنیں ترتیب دیں۔ جن میں منیر حسین ، زبیدہ خانم، فدا حسین، رونا لیلیٰ ، اخلاق احمد، فریدہ خانم ، اقبال بانو، غلام عباس ، آئرم پروین، شاہدہ پروین، ناہید نیازی شامل ہیں مگر جن گلوکاروں سے انہوں نے گانے نہیں گوائے ان میں نورجہاں بھی شامل تھیں۔ جن دنوں نور جہاں پی ٹی وی کے لیے پروگرام کررہی تھیں تو راہداری میں ماسٹر منظور مل گئے ، نورجہاں نے ان کا گریبان پکڑ لیا اور اپنے روایتی انداز میں کہا’’ وے ماسٹر توں میرے کولوں کیوں نہیں گنواندا‘‘ (اے ماسٹر تو مجھ سے گانا کیوں نہیں کرواتا) ماسٹر منظور صاحب نے خود بیان کیا کہ ’’خدا جنت نصیب کرے وہ بڑی عورت تھی اس نے پروڈیوسر نجم الحسن کو کہہ کر ڈبل روٹی، انڈے اور جیم منگوایا اور اپنے ہاتھوں سے مجھے پیش کیا اور کہا اب بتائیں آپ مجھ سے کیوں گانا نہیں کراتے تو ماسٹر صاحب نے وہی وجہ بیان کی جس کا ذکر ہوچکا ہے۔ ماسٹر صاحب کی دھنیں بظاہر بہت سادہ اور سیدھی ہوتی ہیں مگر موسیقی کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ انہیں گانا اتنا آسان نہیں ہوتا تھا جتنا سننے میں محسوس ہوتا ہے۔ پی ٹی وی کے لیے 1973ء میں پروڈیوسر اختر وقار عظیم نے ماسٹر صاحب سے اطہر نفیس کی ایک غزل ’’وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا‘‘ کی دھن بنوائی جب فریدہ خانم گانے کے لیے آئیں انہوں نے وہ دھن سنی تو انہیں شاعری اور دھن پسند نہ آئی اور کہاکہ یہ میرے مزاج کے مطابق نہیں۔اُدھر ماسٹر منظوربھی اپنی دھن کے پکے تھے لہٰذا فریدہ خانم کو پروڈیوسر نے کہا کہ کہ ایک دفعہ ریکارڈ کرکے سنتے ہیں نہ اچھی لگی تو دوبارہ کچھ اور کرلیں گے۔ یوں یہ غزل ریکارڈ ہوگئی اور بعدازاں اس غزل کا شمار ان غزلوں میں ہوا جو فریدہ خانم کی پہچان بنیں۔ 1982ء میں پی ٹی وی نے ملی نغموں کا مقابلہ منعقد کروایا۔ ملک بھر سے ہزاروں ملی نغمے موصول ہوئے ہر سٹیشن کو پانچ پانچ نغمے پروڈیوس کرنے کے لیے ملے۔ ماسٹر منظور کو بھی موسیقی ترتیب دینے کے لیے ایک نغمہ دیا گیا تو انہوں نے اس وقت کے کسی بڑے گلوکار کی بجائے غلام عباس سے وہ نغمہ کرایا۔ وہ نغمہ 25نغموں میں سے اول آیا ۔گلوکار غلام عباس راوی ہیں کہ صرف اس نغمے پر انہیں29ایوارڈ ملے اس ملی نغمے کے بو ل ہیں۔ ’’اے پاک وطن اے پاک زمیں تیرے دن موتی تیری رات نگیں‘‘ شہنشاہ نواب اس گیت کے پروڈیوسر تھے اور پاکستان میں غالباً یہ پہلا گیت تھا جس کی ویڈیو بنی۔ ماسٹر منظور کے ایک بھائی الطاف حسین بھی بہت اعلیٰ موسیقار تھے ان کی ترتیب دی ہوئی دو غزلیں میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی بہت مشہور ہیں۔ ماسٹر منظور موسیقار اعظم نوشاد کو اپنا استاد مانتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے انہی کی طرح موسیقی دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ نوشاد صاحب سے کبھی ملے نہیں مگر نوشاد سے ٹیلی فون اور خط کتابت کے ذریعے رابطہ تھا ۔ ماسٹر منظور محمد رفیع کی گائیکی کو بہت پسند کرتے تھے اور انہیں لاثانی گلوکار تسلیم کرتے تھے۔ پاکستان میں خواجہ خورشید انور اور ماسٹر عنایت کو ہرحوالے سے مضبوط کام کرنے والا مانتے تھے۔ بچپن میں نذر محمد کے ساتھ منٹو پارک میں کرکٹ کھیلنے، رستم زماں ، بھولو اور گونگے پہلوان کی کشتیاں دیکھنے والے ماسٹر منظور کو آخری عمرتک کرکٹ سے بھی دلچسپی رہی۔ وہ موسیقی کے مستقبل کے حوالے سے مایوس نہیں تھے اور سمجھتے تھے کہ لائق لوگ آئیں گے اور اپنا راستہ بنائیں گے دنیا اسی طرح آگے بڑھتی ہے۔ حکومت پاکستان نے 2009میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ ماسٹر منظور کے چند گیت، غزلیں اور نغمے جو چہاردانگ عالم شہرت کماچکے ہیں۔ تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے (فلم سویرا) ایس بی جون / یہ دنیا غم تو دیتی ہے ، شریک غم نہیں دیتی ۔ منیر حسین، زبیدہ خانم/ وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔ فریدہ خانم /داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے ، اقبال بانو / اے جذبہ دل گرمیں چاہوں، نیرہ نور /دیپک راگ ہے چاہت اپنی ، شاہدہ پروین / اے پاک وطن اے پاک زمیں(ملی نغمہ) غلام عباس / دشمن اج للکاریا اے ساڈے جاں نثاراں نوں (جنگی ترانہ ، 1971ء) منیر حسین

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

farrukha sohail goindi

فرخ سہیل گوئندی

Farrukh Sohail Goindi. فرخ سہیل گوئندی فرخ سہیل گوئندی احترام کا حوالہ اورمحبت کااستعارہ ہیں …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: