Home / انٹرٹینمنٹ / نیندکیوں رات بھرنہیں آتی

نیندکیوں رات بھرنہیں آتی

اگر آپ سونے کے لیے بستر کا رُخ کرتے ہیں اور جلد ہی نیند کی وادیوں میں نہیں کھو پاتے، تو اس عظیم نعمت سے محرومی کی کئی طبی وجوہ ہو سکتی ہیں۔ ایک مرتبہ اس کا تعین ہو جائے، تو آپ بہتر اور طویل نیند لے سکتے ہیں۔ پیشاب کا مسئلہ:اچھی نیند میں خلل پیشاب کی نالی میں مسئلے کی وجہ سے پڑ سکتا ہے۔ اگر آپ کی پیشاب پر کنٹرول کی صلاحیت کمزور ہے، تو اچھی نیند کو بھول جائیں۔ آپ اپنی خوراک اور طرز زندگی میں تبدیلی کے ذریعے اس پر قابو پا سکتے ہیں جیسا کہ کیفین کے استعمال میں کمی لا کر۔ سردرد:اچھی نیند کی راہ میں ایک رکاوٹ سر کا درد بھی ہے۔ مناسب نیند نہ ملنے سے یہ آدھے سر کے درد میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے، جو بہت خطرناک ہے۔ اس لیے آپ پانی کا زیادہ استعمال کریں۔ متوازن اور طاقتور غذا لیں اور سر درد کو کم کرنے کے لیے متحرک رہیں۔ میگنیشیم کی کمی:انواع و اقسام کی تحقیقات یہ بات ثابت کر چکی کہ میگنیشیم مزاج کو بہتر بنانے، ذہنی بے چینی اور اضطراب کو کم کرنے کے ساتھ زیادہ گہری اور آرام دہ نیند میں بھی مدد دیتی ہے، لیکن لوگوں کی بہت بڑی تعداد جسم میں میگنیشیم کی مناسب مقدار نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں نیند نہیں آتی۔ میگنیشیم کی کمی چڑچڑے پن، گردوں کی سوجن اور پٹھوں میں اینٹھن کا سبب بنتی ہے۔ یہ تمام علامات نیند کو متاثر کرتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق میگنیشیم بے خوابی کا ایک محفوظ اور اہم ترین علاج ہے۔ روز و شب کی تبدیلی:چوکس رہنے سے لے کر جسمانی درجہ حرارت تک انسان کی ہر چیز کا انحصاریومیہ تبدیلی پر ہے۔ ہمارے جسم کی یہ قدرتی گھڑی روشنی کی موجودگی سے کام کرتی ہے، لیکن جدید زندگی بالخصوص کمپیوٹر، ٹیبلٹ، ٹی وی اور موبائل فون کے استعمال نے اسے متاثر کیا ہے۔ روشنی ہماری آنکھوں کے پردے سے داخل ہوتی ہے اور دماغ کو سگنل دیتی ہے، جس سے یومیہ تبدیلی تاخیر کا شکار ہوتی ہے، یعنی ہو سکتا ہے کہ وقت رات کے 10 بجے کا ہو،لیکن دماغ کو یہ سگنل جائے کہ ابھی سورج نکلا ہوا ہے اور وہ سونے کے لیے تیار نہ ہو، چاہے آپ کا جسم کتنا ہی تھکا ہوا کیوں نہ ہو۔ سانس کے امراض:دمہ ہو یا ٹی بی سانس کے امراض کے شکار افراد کو رات کی اچھی نیند لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سانس کے بیشتر مریض بے خوابی اور ذہنی تناؤ کے بھی شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ کی نیند متاثر ہو رہی ہے، تو سانس کے مسائل پر توجہ دیں اور ان کا علاج کروائیں۔ ناک کے مسائل:کئی افراد کو ناک کے مسائل ہوتے ہیں،جن کی وجہ سے وہ اچھی نیند نہیں لے پاتے۔ انسان ناک سے سانس لیتا ہے اور نیند کے دوران سب سے بہتر یہی ہے کہ وہ ناک سے ہی سانس لے، لیکن اگر ناک بند ہو تو نہ صرف وہ اس سے سانس نہیں لے پائیں گے بلکہ خراٹے بھی لیں گے۔ ذہنی تناؤ:ذہنی دباؤ کے شکار افراد کو نیند میں مشکل پیش آتی ہے۔ اگر بے خوابی کے ساتھ موڈ کی تبدیلی، غیر متوقع وزن میں اضافہ یا کمی یا خودکشی جیسے خیالات آئیں، تو فوری طور پر ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

urwah

سال2016ء میں ویکیپیڈیا پرسب سے زیادہ سرچ کی گئی پاکستانی شخصیات

ویکیپیڈیا پرتقریبا 3500 پاکستانیوں کی معلومات موجود ہیں جبکہ ہر ماہ تقریبا 50 کروڑ لوگ …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: