Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
علم طب کاباوا آدم....بقراط - Lahori
Home / شخصیات / علم طب کاباوا آدم….بقراط

علم طب کاباوا آدم….بقراط

ونسنسن اور ولیم اے ڈی وٹ
ترجمہ:مولانا عبد المجید سالک
بقراط اس طبیب کا بیٹا تھا، جس کا دعویٰ تھا کہ وہ طب کے یونانی دیوتا اسقلیبوس کی نسل سے ہے۔ اس دیوتا کا نام اس حلف نامے میں لیا جاتا ہے، جو یونان کے ڈاکٹر اور طبیب اب تک اُٹھاتے ہیں۔ بقراط 460 قبل مسیح میں جزیرہ کوس میں پیدا ہوا، جو اسقلیبوس کے نزدیک مقدس تھا۔ اگرچہ یونانیوں کو انسانی جسم کی چیرپھاڑ سے سخت نفرت تھی، لیکن بقراط نے تشریح اعضا کے مطالعہ وتحقیق میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کر کے تشریح اعضا کے علم میں بہت بڑا اضافہ کیا۔ وہ اپنے زمانے کے رواج کے خلاف بیماری کے متعلق ہر قسم کی اوہام پرستی کا مخالف تھا۔ اس کو یقین تھا کہ انسانی جسم میں صرف قدرتی وجوہ سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا جنوں بھوتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس عقیدے سے طب میں نئے تجربات اور ایجادات کا دروازہ کھل گیا۔ بقراط نے بیماریوں کے اسباب کو دو بڑے بڑے حصوں میں تقسیم کیا؛ اوّل موسمی اور آب و ہوائی، دوم ذاتی، یعنی غلط خوراک کا استعمال، ورزش نہ کرنا وغیرہ۔ وہ دواؤں کے استعمال اور فصد کھولنے پر اتنا اعتقاد نہ رکھتا تھا، جتنا صحیح قسم کی غذا اور باقاعدگی پر بھروسا رکھتا تھا۔ کہتے ہیں کہ بقراط نے طب تو اپنے باپ سے پڑھی تھی اور فلسفے کی تعلیم مشہور حکیم دیمقراطیس سے حاصل کی۔ اس کے بعد کچھ مدت تک وہ سفر کرتا رہاا ور واپس آ کر اپنے وطن یعنی جزیرہ کوس میں معالجات کا کام کرنے لگا، لیکن آج کل کے اہلِ علم اس کی زندگی اور اس کی تصانیف کے متعلق معدودے چند باتوں کو یقینی طور پر صحیح سمجھتے ہیں۔بقراط کے متعلق زیادہ تر معلومات ایک تو افلاطون اور ارسطو کے حوالوں سے حاصل ہوئی ہیں، جو اس کے قریب العصر تھے اور دوسرے ’’مجموعہ رسائل بقراط‘‘ سے۔ یہ چند طبی رسالوں کا مجموعہ تھا، جو 300 قبل مسیح کے بعد مدرسہ اسکندریہ میں شائع ہونے لگے تھے، لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ ان رسالوں سے کتنے واقعی بقراط کے تصنیف کردہ ہیں۔ موت کے وقت بقراط کی عمر کیا تھی؟ اس کے متعلق مختلف اندازے لگائے گئے ہیں، جو 85 سے 110 سال تک کے ہیں۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

farrukha sohail goindi

فرخ سہیل گوئندی

Farrukh Sohail Goindi. فرخ سہیل گوئندی فرخ سہیل گوئندی احترام کا حوالہ اورمحبت کااستعارہ ہیں …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: