Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
نئے سال کی چنددلچسپ سیاسی پیش گوئیاں - Lahori
Home / عالمی حالات / نئے سال کی چنددلچسپ سیاسی پیش گوئیاں

نئے سال کی چنددلچسپ سیاسی پیش گوئیاں

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سال انتہائی غیر مستحکم عالمی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ برطانیہ کا یورپی یونین سے باہر نکلنے کا فیصلہ ہو یا امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کا صدر بن جانا ہو، جہاں یہ پیش رفت جمہوریت پر یقین کو متزلزل کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب بڑھتی ہوئی دہشت گردی مغرب میں بھی قدم جماتی نظر آئی۔ گو کہ یہ سال کئی غیر یقینی حالات کو سامنے لایا، لیکن ان کو سامنے رکھتے ہوئے اگلے سال کے لیے کچھ پیش گوئی کی جا سکتی ہے: شمالی کوریا، پہلا امتحان: یہ آمرانہ ریاست امریکا کے لیے ہمیشہ سرکا درد اور انتہائی غیر یقینی کیفیت کی حامل رہی ہے۔ ماہرین بیشتر ممالک کے بارے میں پیش گوئیاں کر سکتے ہیں کہ مخصوص صورت حال میں وہ کیا ردِ عمل دکھا سکتے ہیں، لیکن شمالی کوریا کی قیادت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پیانگ یانگ نے جب بھی ردِ عمل دکھایا ہے، وہ اچھا نہیں ہوتا۔ ایک مثال 2010ء میں جنوبی کوریائی جزیرے پر شمالی کوریا کی شیلنگ تھی۔ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے حوالے سے سخت گیر رویہ اپنائیں گے؟ ایک ایسے وقت میں جب شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کی طرف قدم بڑھا رہا ہے، عالمی سطح پر اس کے تعلقات میں تناؤ جلد یا بدیر بہت بڑھے گا۔ روس کی پیش قدمی:یوکرین میں اقدامات سے روس کی ہمت کافی بڑھ چکی ہے۔ خاص طور پر کریمیا میں مداخلت اور اس پر قبضہ کر کے، جہاں عالمی برادی کی جانب سے اسے کچھ خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، پھر امریکا کے صدارتی انتخابات کے موقع پر روس کے بڑے سائبر حملے بھی اس سال نمایاں رہے۔ اس لیے توقع ہے کہ روس دیگر سیاسی معاملات میں بھی مداخلت کرے گا بالخصوص بالٹک ریاستوں میں۔روس نے اکتوبر میں پولینڈ اور لتھووینیا کی سرحدوں کے بہت قریب نیوکلیئر صلاحیت رکھنے والے میزائل نصب کیے۔ نیٹو نے جواب میں بالٹک ریاستوں میں اپنے فوجی دستے اور ٹینک لگائے۔ اندازہ تو یہی ہے کہ سرد جنگ کے زمانے کے یہ حالات اگلے سال بھی جاری رہیں گے۔ داعش کے دارالخلافے پر فیصلہ کن کارروائی: داعش کی طاقت بدستور کمزور پڑ رہی ہے اور یہ رجحان 2017ء میں بھی جاری رہے گا۔ گوکہ موصل سے دہشت گرد گروپ کو نکالنے کا عمل سست روی سے جاری ہے، لیکن اُمید ہے کہ اگلے سال کے اوّائل میں ہی یہ عراقی فوج کے ہاتھ آ جائے گا، پھر دو چار ماہ کی مزید لڑائی کے بعد موصل مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گا۔ اس کے بعد توقع ہے کہ عراق میں داعش کے قبضے میں موجود دیگر شہروں کی باری آئے گیا اور یوں جنگجو اپنے شامی دار الحکومت تک محدود ہو جائیں گے، جہاں ایک مرتبہ رقہ کی طرف پیش قدمی شروع ہوئی ،تو فیصلہ کن کارروائی ہو گی۔ دہشت گردی کی مزید کارروائیاں:دہشت گرد گروپ اتنی خاموشی سے منظر عام سے غائب نہیں ہوتے، بالخصوص جب وہ داعش جیسے ہوں۔ ان کے گڑھ کی طرف پیش قدمی شروع ہوئی، تو پروپیگنڈا بھی شروع ہو گا، جیسا کہ ان کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا، جس سے بھرتیاں مزید تیز ہوں گی اور ساتھ کارروائیاں بھی۔یوں اگلے سال داعش کی جانب سے بڑے دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے۔ بشار الاسد مزید طاقتور: سقوط حلب کے بعد مشرقی شام میں بشارالاسد اور ان کی پشت پناہی کرنے والے روس اور امریکا کی پوزیشن کافی مضبوط ہوئی ہے۔ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ویسے ہی امریکا کی شام پالیسی پر بارہا تنقید کر چکے ہیں، خاص طور پر بشار کے مخالفین کو مسلح کرنے اور ان کی حمایت کرنے کو،اس لیے امکان ہے کہ وہ بشار کے اقتدار کو قبول کریں گے اور اس کے بدلے میں روس سے حمایت حاصل کریں گے۔ یوں امریکا اور روس کے درمیان دوستانہ تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے، جس کا ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران بھی اظہار کیا تھا۔ چین امریکا تنازع میں شدت :چین نے حال ہی میں امریکی بحریہ کا ایک ڈرون پکڑا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر بحریۂ جنوبی چین میں بڑھتی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ علاقے میں چین کے بڑھتے ہوئے قدم بحرالکاہل میں امریکی پوزیشن کو کمزور کر رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا، تو سنگاپور، ویت نام اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ساتھ امریکا کی اہم تجارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکا- ایران معاہدہ ختم نہیں ہو گا: گوکہ امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران معاہدے کی سخت مخالفت کی تھی ،لیکن کم از کم وہ فوری طورپراس معاہدے کوختم نہیں کریں گے اوردیگراقوام ایران کے ساتھ کاروبارجاری رکھیں گی۔..اُردو ٹرائب

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

trump

ڈونلڈٹرمپ20جنوری کووائٹ ہاؤس میں داخل ہو جائیں گے،الیکٹورل کالج نے ٹرمپ کو سرکاری طور پرصدرمنتخب کرلیا

8نومبر کو امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ملک بھر کے عام ووٹرز نے جو حصہ …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: