Home / تاریخ / ہڑپہ…ایک تاریخی اثاثہ

ہڑپہ…ایک تاریخی اثاثہ

ڈاکٹرمحمداسلم ڈوگر

برسوں سے دریائے راوی کے کنارے آباد لوگوں میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ جب کسی نوجوان کی شادی نہیں ہوتی تو اسے ہڑپہ کے کھنڈرات میں واقع ایک مزار پر جانے کی نصیحت کی جاتی ہے۔ اس مزار میں بارہ گز لمبی قبر ہے ۔جب کوئی نوجوان یہاں خضوع و خشوع سے فاتحہ پڑھتا اور دعائیں مانگتا ہوا نظر آئے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ موصوف کوششوں کے باوجود شادی میں ناکام ہو چکے ہیں، اب اس مزار پر آئے ہیں اور یہ منت مان رہے ہیں کہ اگر اس کی شادی ہو گئی تو وہ اپنے سہرے اور کلے کا چڑھاوا چڑھائے گا۔ اس مزار پر لٹکے ہوئے بے شمار کلے اور سہرے اس امر کی دلیل ہیں کہ بہت سے نوجوان اپنی شادی کی مراد پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ مزار کے باہر لوک کلام گانے والے بھی موجود ہیں جو عام طور پر زائرین کو دیکھ کر زور شور سے گانا شروع کر دیتے ہیں۔ ساہیوال سے ملتان جاتے ہوئے کار پر آپ ہڑپہ نامی ایک چھوٹے سے قصبے سے گزرتے ہیں۔ یہاں ایک ریلوے سٹیشن ہے۔ ریلوے لائن عبور کریں تو ایک پختہ سڑک پرانا چیچہ وطنی کو جاتی ہے۔ یہ وہ پرانی شاہرہ ہے جس پر کسی زمانے میں ملتان سے دہلی جانے والے کارواں سفر کیا کرتے تھے۔ اسی سڑک پر تقریباً پانچ چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہڑپہ میوزیم ہے، جسے دیکھنے کے لئے پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں انسانی ارتقاء کے مراحل کامشاہدہ اس دورودراز علاقے میں کھینچ لاتا ہے۔ لوہے کی دریافت سے قبل تانبے اور کانسی کے دور میں انسان کیسے زندگی بسر کرتے تھے؟ ہڑپہ کا یہ قدیم شہر ان رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ پنجاب میں ہڑپہ کی حیثیت قدیم کھنڈرات کی ہے۔ مقامی باشندے مزار پر منتیں ماننے آتے ہیں یا مدتوں سے لوگ یہاں سے پختہ اینٹیں چوری کر کے اپنے مکان تعمیر کرتے رہے ہیں۔ انسانی تاریخ کی کوئی کتاب ہڑپہ یا وادئ سندھ کی تہذیب کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، مگر ہڑپہ کی یہ بدقسمتی ہے کہ اہل پاکستان اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں۔ 1842ء میں ایک انگریز چارلس میس اس علاقے سے گزرا تو اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک قدیم شہر کے کھنڈرات ہیں۔ وہ یہاں آیا اور اس نے اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ کیا۔ چارلس میسن فوجی تھا۔ آگرہ میں اپنی تعیناتی کے دوران وہ فوجی زندگی سے بیزار ہو گیا تھا اور ہندوستان کے اسرار کی تلاش میں نکل پڑا۔ چارلس میس جیمز ہویز کے نام سے بھی معروف تھا۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ انگریز جاسوس تھا۔ اس نے نہ صرف برصغیر کے دوردراز علاقوں میں سفر کیا بلکہ وہ افغانستان بھی گیا اور بامیان میں بدھ کے مجسموں پر یہ لکھ آیا کہ اگر کوئی دیوانہ سیاح یہاں تک پہنچتا ہے تو اسے علم ہونا چاہیے کہ یہاں چارلس میسن پہلے ہی آ چکا ہے۔ چارلس میسن نے اپنے سفر کے دوران نوہزار سے زائد نوادرات اکٹھے کئے۔ ان میں سے بیشتر اب برٹش میوزیم کا حصہ ہیں۔ہڑپہ کی بڑی بدقسمتی کا آغاز اس وقت ہوا جب انگریزوں نے لاہور کراچی ریلوے لائن بچھانے کا فیصلہ کیا۔ ریلوے کی پٹڑی بچھانے کے لئے اینٹوں کی ضرورت تھی، ٹھیکے دار کو ہڑپہ کے پرانے کھنڈرات یاد آئے۔ یہاں پختہ اینٹیں موجود تھیں اور ان اینٹوں سے قریبی آبادیوں کے لوگوں نے مکان بھی تعمیر کر رکھے تھے۔ انگریز انجینئروں کو اس سے غرض نہیں تھی کہ اینٹیں کہیں سے آتی ہیں۔ انہوں نے ان اینٹوں کو ریلوے کی پٹٹری میں استعمال کرنے کی اجازت دے دی یوں ہڑپہ کا تاریخی ورثہ استعمال ہونے لگا۔ ایک اندازے کے مطابق ریلوے کی تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر پٹٹری میں ہڑپہ کی اینٹیں استعمال ہوئی تھیں۔ اس کے برعکس موئن جو داڑو اس لئے محفوظ رہا کہ وہاں کوئی ریلوے لائن نہیں تھی جس کے لئے پختہ اینٹوں کی ضرورت پڑتی۔ انگریز انجینئروں نے ریلوے لائن تعمیر کر دی۔ 1858ء کے بعد برصغیر کا اقتدار براہ راست تاج برطانیہ کے کنٹرول میں تھا۔ برطانوی حکومت نے اس زمین اور اس کے باشندوں کو سمجھنے کے لئے جو ادارے بنائے ان میں 1861ء میں قائم ہونے والا آرکیالوجیکل سروے بھی تھا۔ مگر ہڑپہ پر اصل کام 1920ء کے عشرے میں ہوا جو 1931ء تک جاری رہا۔ مٹی کے ٹیلوں کے نیچے سے ایک نئی تہذیب کے آثار دریافت ہوئے۔ ایک ایسی تہذیب جس کی ٹاؤن پلاننگ کا نیویارک سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ پانچ چھ ہزار سال قبل یہاں پختہ مکانات تھے۔نکاسئ آب اور فراہمی آب کے منصوبوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اس شہر کے باشندے نہ صرف صاف پانی کی اہمیت سے واقف تھے بلکہ انہوں نے پانی کو صاف کرنے کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ یہاں تانبے اور کانسی کے اوزار ملتے ہیں۔ یہاں ایک ایسی شہری تہذیب آباد تھی جو کاشتکاری کے طریقے سیکھ چکی تھی۔یہاں کپاس نہ صرف کاشت کی جاتی تھی بلکہ کپڑوں کی رنگائی بھی کی جاتی تھی۔ یہاں لوگ گندم‘ چاول‘ سبزیاں اور پھل کاشت کرتے تھے۔یہاں مارکیٹیں تھیں۔ جدید قسم کی رہائش گاہیں تھیں۔ ہڑپہ اور موئن جودڑو ایک ہی عہد کے شہر ہیں۔ اسے وادئ سندھ کی تہذیب کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ شمال مشرقی افغانستان سے پاکستان اور شمال مغربی بھارت تک پھیلی ہوئی اس تہذیب میں پانچ ملین سے زائد لوگ تھے۔ یہ دستکاری کے طریقے جانتے تھے۔ مہریں بناتے تھے۔ قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کے ساتھ ساتھ ہڑپہ دنیا کی تین قدیم تہذیبوں کا مرکز تھا۔ ہڑپہ میں کسی جگہ حکمران کے گھر کے آثار نہیں ملتے بلکہ تمام گھر برابر ہوتے تھے۔ کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی۔ ہر جگہ حکمران مختلف ہوتا تھا۔ مگر شہروں میں جو یکسانیت نظر آتی ہے اور جو پلاننگ دکھائی دیتی ہے اس کا مطلب ہے کہ کسی جگہ فیصلے ہوتے تھے اور ان فیصلوں پر عملدرآمد ہوتا تھا۔ ہڑپہ سے ملنے والی مہروں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں مصر اور میسوپوٹیمیا کی طرح کوئی زبان بھی تھی۔ اس زبان کو آج تک نہیں پڑھا جا سکا۔ میوزیم کی سیر کرتے ہوئے احمد نواز ٹیپو ماضی کو ایسے بیان کر رہے تھے کہ ہڑپہ تہذیب کے کردار آنکھوں کے سامنے نظرآ رہے تھے۔ بھارت میں بہت سے دانشور سکندر اعظم کو حملہ آور قرار دیتے ہیں۔ اس طرح وسطی ایشیا اور افغانستان سے آنے والوں کو بھی نہ صرف حملہ آور قرار دیتے ہیں بلکہ ان پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ مگر وہ آریاؤں کو حملہ آور قرار دینے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان کی آمد کو ہجرت قرار دیتے ہیں۔ ایک انگریز محقق مورٹیمر ویلیر نے تحقیق کے بعد یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ آریا حملہ آوروں نے برصغیر پر حملہ کیا اور انہوں نے وادئ سندھ کی تہذیب کا خاتمہ کر دیا۔ پندرہ سو اور ایک ہزار سال قبل مسیح میں وسطی ایشیا سے آنے والے ان حملہ آوروں نے تاریخ تبدیل کر دی۔ ویدوں میں اس جنگ کو روشنی اور تاریکی کے درمیان جنگ قرار دیا گیا ہے۔ یہ جنگ سفید رنگت کے آریاؤں اور کالے رنگ کے دراوڑی باشندوں کے درمیان تھی۔ آج بہت سے ایسے محققین بھی ہیں جو اس سے مختلف باتیں کرتے ہیں۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ وادئ سندھ کی تہذیب کا خاتمہ ہوا اور اس کے بعد آریاؤں نے اس سرزمین پر عروج حاصل کیا۔ اسے تاریخی بددیانتی ہی کہا جائے گا کہ آریا حملہ آوروں یا مہاجروں نے اس سرزمین پر جو منفی اثرات مرتب کئے انہیں عموماً نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔نہرو موئن جو دڑو پر فخر کا اظہار کرتا تھا مگر اس جیسے دانشوروں کی تحریروں میں آریاؤں کے ظلم کا تذکرہ نہیں تھا۔ آریاؤں نے یہاں کے مقامی باشندوں کے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک کیا تھا جیسا سلوک امریکیوں نے ریڈانڈینز کے ساتھ کیا تھا۔ ہڑپہ پنجاب میں ہے۔ پنجاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ کسی شخص کا بیک وقت پنجابی‘ پاکستانی اور مسلمان ہونا ممکن نہیں ہے۔ وہ ایک شناخت پر اصرار کرتے ہیں۔ حالانکہ دیگر اسلامی ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ عرب اپنے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عرب ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ پنجاب میں تعلیم یافتہ لوگ اپنے بچوں کو پنجابی کلچر سے ہی نہیں پنجابی کلچر سے بھی دور رکھتے ہیں۔ ان نام نہاد ترقی پسندوں کے نزدیک پنجابی گالیوں کی زبان ہے۔ گزشتہ دنوں ایک انگریزی سکول نے اپنے سٹوڈنٹس کے لئے جو ہدایت نامہ جاری کیا اس میں اس ذہنیت کی عکاسی ہو رہی تھی۔پنجابیوں کی اس بے حسی کا سب سے زیادہ اثر ہڑپہ میں نظر آتا ہے۔ ساہیوال میں بہت سے دانشور قسم کے ڈپٹی کمشنر بھی رہے ہیں۔ وہ اکثر یہاں پروٹوکول ڈیوٹی پر آتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا بھر سے آنے والی شخصیات اہم رہی ہیں۔ مگر ہڑپہ کے نوادرات میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی تھی پنجاب آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار ہڑپہ میوزیم کی دیکھ بھال کا کام خاصی جانفشانی سے کر رہے ہیں۔ مگر آج بھی اس عالمی ثقافتی ورثے کی حفاظت کا موثر انتظام نہیں ہے۔ قریبی دیہاتوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے دو بڑے گیٹ ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ اس سے قومی ورثے کے لئے خطرات پیدا ہو رہے ہیں، مگر سیاسی مصلحتیں انتظامی امور میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا حصہ ہیں۔ سندھ میں موئن جو دڑو کو غیرمعمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ موئن جو دڑو اب سندھی ثقافت کا حصہ ہے۔ سندھ حکومت نے یہاں ثقافتی میلے بھی منعقد کرائے ہیں۔ مگر ہڑپہ اپنی بدقسمتی پر نوحہ کناں ہے۔ اس تاریخی ورثے کو مقامی آبادی قبرستان کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے چاردیواری تعمیر کرا کے اسے قبضہ گروپوں سے محفوظ کرا لیا ہے۔ مگر اب بھی اس میں دو ایسے گیٹ ہیں جو کھلے رہتے ہیں۔ ان سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ غیرمتعلقہ لوگ بلا روک ٹوک داخل ہو جاتے ہیں۔ مگر ان دروازوں کو بند نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ نہ تو ڈپٹی کمشنرساہیوال کو ہڑپہ کی اہمیت کا اندازہ ہے اور نہ ہی سیاسی قیادت اپنے چند ہزار ووٹوں کو خطرے میں ڈالنے کا رسک لے سکتی ہے۔ ہڑپہ پنجاب کی بے حسی کا ایک نوحہ ہے۔ ساہیوال کی انتظامیہ برسوں سے اس پر توجہ نہ دینے کے فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کر رہی ہے۔ پنجاب میں پنجابی ہونے پر کسی بھی انداز سے فخر کرنا خاصا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مگر ہڑپہ موئن جو داڑو کی طرح پاکستان کا ثقافتی ورثہ ہے بلکہ یہ دنیا کا ثقافتی ورثہ ہے۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

Ram Thaman

گائوں رام تھمن

گائوں رام تھمن رائے ونڈ کے بیچ راجہ جنگ ریلوے اسٹیشن سے پانچ کلومیٹر کے …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: