Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
تونسہ شریف...ہماراثقافتی ورثہ - Lahori
Home / سیاحت / تونسہ شریف…ہماراثقافتی ورثہ

تونسہ شریف…ہماراثقافتی ورثہ

محمد عرفان قیصرانی

یونان صغیر تونسہ شریف جو حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کی نگری کہلاتا ہے اسلامی تہذیب و تمدن اور صدیوں پرانی ثقافت کو اپنے دامن میں لئے قدیم رہن سہن اور روایات کا حامل ہے ۔ دریائے سندھ سے 5کلومیٹر دور اس اہم جغرافیائی خطہ کو اﷲ تعالیٰ نے معدنی دولت سے مالا مال کیا ہوا ہے آج کے جدید دور میں اس علاقہ میں پرانے وقتوں کی یادگاریں انسان کو ماضی کی طرف لے جاتی ہیں۔ تحصیل تونسہ شریف کی لکڑی اورمٹی کی سوغاتیں لاجواب ہیں، یہاں کی کنگھی جو کئی اقسام میں موجود ہے علاقہ بھر میں باہر سے آنیوالے زائرین اور مسافر اسے بطور سوغات خرید تے نظر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں سعودی عرب ، دوبئی، امریکہ، برطانیہ، افغانستان اورانڈیا سمیت دیگر ممالک میں مقیم تونسہ شریف کے لوگ تحفتاً ساتھ لے جاتے ہیں ۔ مٹی کے ظروف میں سر فہرست مٹی سے تیار شدہ گھڑاآتا ہے ۔گھڑوں کی دو اقسام ہیں، گرم گھڑا اور ٹھنڈا گھڑا ۔ گرم گھڑے میں مٹی کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا پانی نہانے اور برتن وغیرہ دھونے میں کام آتا ہے ،جبکہ ٹھنڈے گھڑے میں ریت اور مٹی مکس کی جاتی ہے، اس کا پانی انتہائی ٹھنڈا اور پینے میں فرحت بخش ہوتا ہے اور پیاس کو فوری طور پر ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔علاوہ ازیں ٹھنڈی گھڑی بھی ریت اور مٹی کی آمیزش سے تیار کی جاتی ہے مگر یہ سائز میں گھڑے سے چھوٹی ہوتی ہے۔ مٹی اور ریت کی آمیزش سے مَٹ بھی بنایا جاتا ہے۔ یہ سائز میں بڑا ہوتا ہے اور چار سے پانچ گھڑوں کا پانی اس میں باآسانی سما جاتا ہے۔ مَٹ بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ ٹھنڈا مَٹ اور گرم مَٹ ۔ مٹی کی ڈولی جھجری بھی ریت اور مٹی کی آمیزش سے تیار کی جاتی ہے۔ اس میں 1/2لیٹر پانی کی گنجائش ہوتی ہے۔ پانی اور لسی کو ٹھنڈا رکھنے میں اس کا جواب نہیں۔ علاوہ ازیں انسانی جسم میں موجود گرمی کے خاتمے کے لئے پنیر کے دانے رات کو مٹی کی ڈولی میں بھگو کر رکھنے کے بعد صبح نہار منہ پانی پینے سے جسم کے اندر موجود گرمی کا حیرت انگیز طور پر خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ مٹی کی صراحی المعروف گھوگھی بھی یہاں کے دستکاروں کے فن کا خوبصورت تحفہ ہے۔ ریت اور مٹی کی مدد سے تیار کی جانیوالی صراحی میں موجود ٹھنڈا پانی پینے پر دل کو سکون ملتا ہے ۔ معَتہ بھی ریت اور مٹی کی آمیزش سے تیار کیا جاتا ہے اور اسے دوران سفر پینے کے ٹھنڈے پانی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے خصوصاً چرواہے آج بھی استعمال کرتے ہیں اس کا ٹھنڈا پانی پینے سے حیرت انگیز طو ر پر جسم کی تھکان کے ساتھ ساتھ پیاس بھی ختم ہوجاتی ہے اور یہ صدیوں سے زیر استعمال چلا آرہا ہے ۔سرونچہ کو بھی اعلیٰ مٹی سے ہنر مندی کے ساتھ بنایا جاتا ہے مٹی کا سرونچہ آج بھی پاؤں کے میل اتارنے کے لئے ہر گھر میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ آٹا گوندھنے کے لئے نرم و ملائم مٹی سے پاترا تیار کیا جاتا ہے اور آٹا گوندھنے کے لئے اسے آج تک کی سب سے بہترین سوغات تصور کیا جاتا ہے ۔ نمک والا سپیشل گھڑا ریت مٹی اور نمک کے استعمال سے خصوصی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا ٹھنڈا پانی پینے سے دل اور جگر کو طاقت کے ساتھ ساتھ جسم میں نمکیات کی کمی کو بھی فوری طور پر دور کیا جا سکتا ہے ۔ گولک کو بھی بہترین مٹی کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے اسے گھر میں ایک بینک کی حیثیت حاصل ہوتی ہے جس سے چھوٹے بچوں سمیت بڑے بھی فائدہ اُٹھاتے ہیں اور اس میں برے وقتوں کے لئے استعمال ہونیوالے پیسے کو جمع کیاجاتا ہے۔ اس کی سادہ اور فینسی کئی اقسام آج بھی موجود ہیں ۔ مٹی کے ظروف بنانے والوں میں تحصیل تونسہ میں استاد داد خان ’ کوڑا خان ’ غلام رسول ’ فیض محمد اور اﷲ وسایا کے نام سرفہرست ہیں لکڑی کی کنگھیاں :لکڑی کی سادہ کنگھی کو کوہ سلیمان کے دور افتادہ علاقے میں موجود ایک خاص قسم کی لکڑ ’’قو‘‘سے تیار کیا جاتا ہے ۔ لکڑی کی فینسی کنگھی بھی خاصی شہرت کی حامل ہے لکڑی کی کنگھی کے اوپر انتہائی نفاست اور صفائی کے ساتھ نقش ونگار کیے جاتے ہیں دیکھنے میں یہ ہنر مندی کا عظیم شاہکار نظر آتی ہے ۔ سرمہ تیل والی کنگھی بھی انتہائی نفاست سے تیار کی جاتی ہے اس میں کنگھی کے ساتھ ہی سرمے دانی بنائی جاتی ہے اس کے علاوہ کنگھی کے اوپر ہی سرمہ آنکھوں میں ڈالنے کے لئے انتہائی نفاست سے شیشہ بھی فٹ کر دیا جاتا ہے اور یہ کنگھی انتہائی قدیم روایات کی حامل ہے ۔ لکڑی والی تمام اقسام کی کنگھیوں کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ سر سے گرنے والے بال باقاعدہ کنگھی کرنے سے گرنا بند ہو جاتے ہیں جو کہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔کنگھی سازی میں اُستاد عطامحمد تونسوی مرحوم،اُستاد یار محمد خان، اُستاد محمود خان کے نام بنیادی حیثیت کے حامل ہیں موجودہ دور میں حافظ محمد منیر اور فرید مستوئی آج بھی کنگھی سازی کی تاریخ ساز روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

استنبول،جہاں مشرق اور مغرب ملتے ہیں

زین ریاض انصاری یہ شہر اس دروازے کی اہمیت کا حامل تھا جس کے ذریعے …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: