Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
ڈپریسن سے بچیں...یہ خودکشی کاباعث بھی بن سکتاہے - Lahori
Home / مزید / ڈپریسن سے بچیں…یہ خودکشی کاباعث بھی بن سکتاہے

ڈپریسن سے بچیں…یہ خودکشی کاباعث بھی بن سکتاہے

عالمی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی صحت کے لیے ڈپریشن(اضمحلال)کا مسئلہ کسی بھی طور پر ذیابیطس سے کم سنگین نہیں،البتہ تھوڑی سی توجہ اور احتیاط سے اس نفسیاتی بیماری پر قابو پاکر نہ صرف لاکھوں گھروں کا سکون واپس لایا جاسکتا ہے بلکہ بہت سی انسانی جانیں بھی بچائی جاسکتی ہیں۔ڈپریشن مختلف باتوں کی بناءپر لاحق ہوسکتا ہے اور بتدریج شدت اختیار کرتے ہوئے کسی شخص کو خودکشی کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی کی شخصیت (یعنی اس کی عادت اور مزاج) میں واضح تبدیلیاں آرہی ہوں، وہ لوگوں سے ملنا جلنا کم کردے اور تنہائی کو پسند کرنے لگے،چڑچڑے پن میں مبتلا ہوجائے اور باربار غصے میں آجائے،اپنی صحت اور حلیے کی طرف سے لاپرواہی برتنے لگے اور غیرمعمولی طورپر لاابالی پن کا مظاہرہ کرنے لگے،اور اس پر ہر وقت ناامیدی اور مایوسی کا غلبہ رہنے لگے تو ہمارے ہاں ایسے کسی بھی فرد کو ’’کھڑوس‘‘ اور’’بددماغ‘‘ جیسے القابات دے کر عزیز، رشتہ دار اور قریبی احباب اس سے قطع تعلق کرلیتے ہیں حالانکہ یہی علامات ڈپریشن کو ظاہر کرتی ہیں اور ایسے لوگوں کو فوری توجہ کے ساتھ ساتھ مناسب علاج کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
ایسے فرد کی دلجوئی کریں اوراس سے دوستانہ ماحول میں بات کریں.کسی نفسیاتی معالج کے پاس جانے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ مشکل ہوگا لیکن نرمی سے سمجھا کر بات منوائی جاسکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ایسی صورت میں کسی روایتی نفسیاتی معالج (سائیکاٹرسٹ) ہی کو دکھایا جائے بلکہ ڈپریشن سے چھٹکارا پانے میں این ایل پی (NLP) کے کسی ماہر سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔یہ بھی بات دھیان میں رکھنے والی ہے کہ مریض کو ڈپریشن ختم کرنے والی دواؤں (اینٹی ڈپریسنٹس) کی بہت زیادہ مقدار نہ دی جائے کیونکہ حالیہ برسوں میں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ زیادہ مقدار میں اینٹی ڈپریسنٹ دوائیں استعمال کرتے ہیں ان میں بھی خودکشی کی خواہش بڑھنے لگتی ہے۔این ایل پی کے ماہرین (NLPers) دعویٰ کرتے ہیں کہ این ایل پی کی چند نشستوں (سیشنز) میں کوئی دوا استعمال کیے بغیر ہی وہ ذہنی بیماریاں بھی ختم ہوسکتی ہیں جو روایتی طریقے پر نفسیاتی علاج کروانے اور برسوں تک دوائیں کھانے سے بھی دور نہیں ہوتیں۔
ڈپریشن ہی خودکشی کی خواہش کو جنم دینے والی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔ تاہم کچھ خاص علامات ایسی ہیں جو خودکشی کرنے یا خودکشی کی کوشش کرنے والوں میں اب تک سب سے زیادہ اور نمایاں طور پر دیکھی گئی ہیں جن پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

موت کے بارے میں بار بار بات کرنا
شدید غم میں مبتلارہنا،عدم دلچسپی، کھانے اور سونے میں مشکلات
بلاضرورت ایسے کاموں میں پڑتے رہنا جن کا نتیجہ موت کی صورت میں نکل سکتا ہے جیسے کہ تیز رفتاری سے گاڑی ڈرائیو کرنا اور بار بار سگنل توڑنا وغیرہ۔
ان چیزوں کی پرواہ نہ کرنا جن کا پہلے بہت خیال رہتا تھا۔
خود کو حقیر، معمولی، بے مقصد، ناامید اور بے یار و مددگار ظاہر کرنے والے خیالات کا بار بار اظہار کرنا۔
معاملات کو جلد بازی میں درست کرنے اور پرانی رنجشیں ختم کرنے کی کوششیں کرنا۔
’’میں نہ ہوتا/ ہوتی تو اچھا ہوتا‘‘ اور اسی طرح کے جملے ادا کرتے رہنا۔
اچانک اور بغیر کسی وجہ کے انتہائی غمگین سے بہت خوش نظر آنا (یا خوش نظر آنے کی کوشش کرنا) اور خود کو پرسکون ظاہر کرنا۔
خودکشی کے واقعات کا تواتر سے تذکرہ کرنا۔
لوگوں سے خاص طور پر ملنے جانا اور رخصت ہوتے وقت ’’اگر کوئی غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا‘‘ جیسے کلمات ادا کرنا۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

حادثات سے محفوظ گاڑیاں

جمیل اختر سڑک پر زیادہ تر حادثات ڈرائیور کی غلطی یا لاپرواہی سے ہوتے ہیں۔ …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: