Home / شخصیات / امِیر خسرو….ذہین و طباع شاعر صوفی اور موسیقار

امِیر خسرو….ذہین و طباع شاعر صوفی اور موسیقار

امِیرخسرو نے بلبن سے محمد تغلق تک، دس گیارہ بادشاہوں کے زمانے دیکھے اور اپنی شاعری اور موسیقی سے ہندوستان کی ثقافت کو مالا مال کیا۔ اُن کی ذہانت اور طباعی کی مثال نہیں ملتی۔امِیر خسرو ’’لاچین‘‘ ترکوں کے قبیلے سے تھے۔ان کے والد امیر سیف الدین محمود، چنگیز خان کے حملے کے بعد بلخ سے ترکِ وطن کر کے ہندوستان آ گئے۔ شمس الدین التمش کے مصاحبوں میں سے تھے۔ نواب عمادُ الملک کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ امیر خسرو موضع پٹیالی ضلع ایٹہ میں1253ء میں پیدا ہوئے۔ آٹھ سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ نانا نے تعلیم دلائی اور تربیت کی۔ بیس سال کی عمر میں عربی، فارسی اور مروجہ علوم کی تحصیل سے فارغ ہوئے۔ شاعری اور موسیقی کا شوق آغاز ہی سے تھا۔ غیاث الدین بلبن کا بیٹا شہزادہ محمد ان کا بے حد قدر دان تھا۔ شہزادہ محمد اور مغلوں کے درمیان جنگ ہوئی، جس میں خسرو بھی گرفتار ہو گئے۔ دو سال بعد بمشکل رہائی ملی۔ اس کے بعد خسرو مختلف بادشاہوں کے درباروں میں بلند مناصب پر فائزرہے۔خُسرو فارسی کے با کمال شاعر تھے، لیکن اُردو زبان کے بھی باوا آدم ثابت ہوئے کیونکہ انہوں نے اُردو میں کہ ’’مکرنیاں‘‘دو سخنے، پہیلیاں اور گیت لکھ کر اپنی ذہانت کا ثبوت دیا۔ فارسی میں ان کی متعدد مثنویاں اور چار دیوان مشہور ہیں،جن کا لوہا ایرانی بھی مانتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے موسیقی میں بھی مجدد کا مرتبہ حاصل کیا۔ ایرانی موسیقی میں بھی مجدد کا مرتبہ حاصل کیا۔ ایرانی موسیقی اور ہندوستانی موسیقی کے امتزاج سے انہوں نے بہت سی راگنیاں ایجادکیں اور شمالی ہندوستان میں موسیقی کا انداز باکل بدل دیا، جس کی پیروی آج تک کی جا رہی ہے۔ قوالی کے موجد وہی ہیں۔بعض کے نزدیک ستار بھی انہی کی ایجاد ہے۔ قول، ترانہ، خیال، نگار، بسیط، شاہانہ، سہیلا اُن کی ایجادات ہیں جن میں سے اکثر اب بھی مقبولِ عام ہیں۔ حضرت نظامُ الدین اولیاء ؒ کے نہایت عقیدت مند اور عاشق مرید تھے اور حضرت ممدوح کو بھی خُسرو سے محبت تھی۔ چنانچہ خسرو نے ظاہری علوم کے ساتھ ہی ساتھ طریقت کی منزلیں بھی طے کیں اوراپنے پیر و مرشد سے مستفیض ہو کر مقاماتِ بلند حاصل کیے۔ غرض یہ بے نظیر نابغہ روزگار علم و فضل، شعر و سخن،فنِ موسیقی اور طریقت و تصوف سب شعبوں میں کمال رکھتا تھا۔ 725ھجری 1325ء میں خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کا وصال ہوا۔ چند ماہ بعد امیر خسرو بھی رخصت ہو گئے اور پیرو مرشد کے مزار واقع دہلی کے پائینتی دفن ہوئے.

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

farrukha sohail goindi

فرخ سہیل گوئندی

Farrukh Sohail Goindi. فرخ سہیل گوئندی فرخ سہیل گوئندی احترام کا حوالہ اورمحبت کااستعارہ ہیں …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: