Home / انٹرٹینمنٹ / سال 2017 ء کی ہارر موویز

سال 2017 ء کی ہارر موویز

عبدالستارہاشمی

ہالی وڈ کی فلمیں امریکی اور مغربی ممالک سمیت پاکستان میں بھی خوب مقبول ہیں۔ کئی لوگوں کی پسند رومانٹک ، مزاحیہ، ایکشن اور تھرلر سے بھرپور فلمیں ہوتی ہیں تو بعض خوفناک فلموںکے شوقین ہوتے ہیں۔ 2016ء میں بھی ہالی وڈ کی ہارر فلموں کو بہت پسند کیا گیا جبکہ ڈو ناٹ بریتھ ، ہش، اوئی جا : اوریجن آف ایول ، انڈر دی شیڈو ، لائٹ آؤٹ اور کنجرنگ 2کے مکالموں اور ڈائریکشن کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ کسی شاہکار سے کم نہیں ۔ پاکستانی میں سب سے زیادہ مقبولیت کنجرنگ 2 اور اوریجن آف ایول نے سمیٹی۔ مشہورِ زمانہ ملائشین نژاد آسٹریلین ڈائریکٹر جیمز وین کنجرنگ فلم کی دو قسطوں سمیت، چند بہترین ہارر فلموںسا 2003ئ، ڈیڈ سائلنس اور ڈیڈ سنٹنس2007، انسیڈیس سمیت گزشتہ سال ریلیز ہونے والی ایکشن فلم فیورس 7 بھی ڈائریکٹ کرچکے ہیں۔ وین کا کہنا ہے کہ کئی بار ہارر سین کی شوٹنگ کے دوران ، وہ خود بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں، لیکن انہیں اُمید ہے کہ وہ عوام الناس کے لیے تفریحی کام جاری رکھیں گے۔ آئیے 2017ء میں آنے والی ان چند ہارر فلموں کی کہانیاںملاحظہ کریں جو یقینا کامیاب ہوں گی۔ پیشنٹ زیرو سٹیفن روزو ٹزکے کی ڈائریکٹر کردہ یہ برٹش – امریکی فلم بے حد خوفناک ہے۔ فلم کے مرکزی کرداروں میں مشہور انگلش (برٹش )ایکٹر میتھیو سمتھ اورناتالی ڈورمرشامل ہیں۔ یہ فلم لندن کے مختلف مقامات پر فلمائی گئی ہے۔ فلم کی کہانی ایک وبائی مرض کے پھوٹنے سے شروع ہوتی ہے جب بڑی تعداد میں لوگ ایک ایسے مرض کا شکار ہو جاتے ہیں جو عام انسانوں کی سوچنے سمجھنے اور جسمانی صلاحیتوں کو غیر معمولی حد تک بڑھا سکتاہے۔ اس خطرناک مرض کے شکار افراد کو فلم میں ’’دی انفیکٹڈ‘‘ یعنی ’’متاثرہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پوری فلم میں مورگن نامی شخص جو ان متاثرہ لوگوں سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ’’پیشنٹ زیرو‘‘ کا تعاقب کرتا دکھایا جائے گا ۔ پیشنٹ ز یرو کے تعاقب کی وجہ وبائی مرض کا اینٹی ڈوٹ (دوا) ہے جو صرف پیشنٹ زیرو ہی کے پاس موجود ہے۔ انسانیت کو اس موزی مرض کے چنگل سے نکالنے کی غرض سے تگ و دو کرنے والے مورگن کی اپنی بیوی بھی اِس وبائی مرض کا شکار ہو جاتی ہے۔ فلم میں دی انفیکٹڈ نامی درندے بڑی بے دردی سے لوگوں کا قتلِ عام کرتے دکھائی دیں گے جو یقینا ایک خوفناک منظر ہو گا۔ سا: لیجے سی اس سے قبل بھی فلم ’’سا‘‘ کے 7کامیاب سیکوئلز دنیا بھر کے سینماؤں کی زینت بن چکے ہیں۔ سا: لیجے سی یعنی سا کی 8 ویں قسط کومیچل اورپیٹر سپائرگ نے ڈائریکٹ کیا جبکہ اس کے لکھاری جوس سٹولبرگ ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دیگر فلمی سیریز کی طرح ’’سا‘‘ کا اختتام بھی 8 ویں حصے پر ہو گا۔ تاہم یاد رہے کہ امریکی فلموں کی روایت برقرار کھتے ہوئے 8ویں حصہ 2 قسطوں میں ریلیز کیا جائے گا۔ 19 جنوری 2004ء میں ریلیز ہونے والی سا کی پہلی قسط خوفناک فلموں کے مداحوں کے لیے ایک نیا تجربہ تھی ، تاہم پھر بھی ایک عرصہ تک یہ فلم ناقدین کی شدید تنقید کا شکار رہی۔ وہ اس وجہ سے کہ فلم میں دکھائے گئے خطرناک جال اور ان میں پھسنے والے لوگوں کی بے دردی سے موت دل دہلا دینے والی تھی۔ بحرحال 1.2 ملین ڈالر کی لاگت سے بننے والی اس فلم نے 103.9 ملین ڈالر کا ریکارڈ توڑ کاروبار کیا۔ پہلی قسط کی طرح دوسری قسط نے بھی 147.7 ملین ڈالر کا کاروبار کیا جبکہ اس پر صرف 4 ملین ڈالر لاگت آئی۔ اس فلمی سیریز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر تیسری قسط کی لاگت کو بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دیا گیا جبکہ یہ فلم 164.8ملین ڈالر کما کر کامیاب ٹھہری۔ اسی طرح 4، 5، 6 اور 7 ویں حصے نے بالترتیب 139.3، 113.8، 68.2 اور 136.1 ملین ڈالرز سمیٹے۔ 6 ویں حصے میں کاروباراور مقبولیت میں قدرے کمی دیکھنے میں آئی جس کی وجہ اس کی بے تکی کہانی تھی۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ 8 واں حصہ بھی نئے خوفناک جالوں اور تجسس سے بھرپور ہو گا۔ اینابیلی 2 اینا بیلی 2 بھی ایک امریکن ’’سپر نیچرل ہارر‘‘ فلم ہے،جس کے ڈائریکٹر ڈیوڈ ایف سینڈبرگ اور رائٹرگریڈوبرمن ہیں۔ یہ 2014ء میں ریلیز ہونے والی اینا بیلی فلم کا دوسرا جبکہ مشہورِ زمانہ ہارر فلم کنجرننگ کا چوتھا سیکوئل ہے۔اس فلم کے مرکزی کرداروں میں سٹیفن سگمن اور ٹالیتھا بیٹیمن شامل ہیں۔ یہ فلم ایک بوڑھے گڑیا بنانے والے اور اِس کی بیوی کے گرد گھومتی ہے جن کی بیٹی 20 سال پہلے پُر اسرار طور پر مر جاتی ہے۔ والدین پربیٹی کی موت کا گہرا اثر ہوتاہے اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ شہر میں موجود یتیم بچیوں کی کفالت کے لیے وہ اپنے گھر کو ایک یتیم خانہ میں بدل دیں گے۔ اینا بیلی کے پہلے حصے ہی کی طرح دوسرے حصے میں بھی ایک گڑیا خوفناک طور پر لوگوں کوموت کے گھاٹ اُتار دیتی ہے۔ تاہم اس حصے میں گڑیا کا نشانہ یتیم خانے کے بچے بن جاتے ہیں۔ دی بائے بائے مین دی بائے بائے مین بھی آئندہ ریلیز ہونے والی امریکن ’’سپر نیچرل ہارر‘‘ فلم ہے جس کے ڈائریکٹر سٹیسی ٹائٹل اور رائٹر جونیتھن پینر ہیں۔ اس فلم کی کہانی روبرٹ ڈیمون کی کتاب دی پریذیڈنٹ ویمپائر کے ایک باب ’’ دی بریج ٹو باڈی آئس لینڈ‘‘ سے لی گئی ہے۔ فلم کے مرکزی کرداروںمیں ڈوگلاس سمتھ ، لوسین لیوسکاؤنٹ اور کریسیڈا بونس ہیں۔ فلم انتظامیہ کے مطابق 13 جنوری 2017ء میں یہ فلم سینماؤں کی زینت بنے گی۔ یہ پوری فلم کالج کے تین طالب علموں کے گرد گھومتی ہے جو ایک پُرانے گھر میں پک نک منانے آتے ہیں، جہاں پہلے ہی دن انہیں احساس ہوتا ہے کہ اس گھر میں وہ ایک ایسے بھوت ’’بائے بائے مین‘‘ کا شکار بننے والے ہیں جو پہلے بھی ان گنت لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار چکا ہے۔ اب تینوں طالب علم اس خوفناک بھوت کے چنگل سے بچنے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہو جاتے ہیں اسی اثناء میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رہائی کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اس بھوت کا نام نہ بولا جائے اور نہ ہی سوچا جائے کیونکہ اگر ایک بار بھی بائے بائے مین آپ کے سر میں آگیا تو وہ آپ کے پورے جسم کو قابو کر سکتا ہے اور من چاہے کام کروا سکتا ہے۔ جیپر کریپر3 جیپر کریپر 3کی ریلیز ہونے کی تاریخ فی الحال بتائی نہیں گئی لیکن اُمید ہے کہ یہ 2017ء میں ہی سینماؤں کی زینت بنے گی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر وکٹر سیلوا ہیں ۔ اس سے قبل بھی جیپر کریپر کی دو قسطیں ریلیز کی جا چکی ہیں پہلی قسط 2001ء میں جبکہ دوسری 2003ء میں ریلیز کی گئی، پہلے دونوں ہی حصوں نے خاصا بزنس کیااور عوام میں خوب مقبولیت حاصل کی۔

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

urwah

سال2016ء میں ویکیپیڈیا پرسب سے زیادہ سرچ کی گئی پاکستانی شخصیات

ویکیپیڈیا پرتقریبا 3500 پاکستانیوں کی معلومات موجود ہیں جبکہ ہر ماہ تقریبا 50 کروڑ لوگ …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: