Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
Bhirwal village situated in Chunian, district Kasur.
Home / سیاحت / بھڑوال

بھڑوال

ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کا ایک قدیم قصبہ۔ چونیاں سے 22کلومیٹر بطرف شمال واقع ہے۔ مغل عہد میں اسے ہندو اروڑا قوم کے ایک شخص بھڑ نامی نے آباد کیا تھا اور اس کا نام بھڑوال مشہور ہوا, پھر ایک وقت آیا کہ یہ قدیم آبادی اُجڑ گئی اور یہ کھنڈر بن گئی۔ بعدازاں سکھوں کے عہد میں نکئی سکھ سرداران نے اُسی کھنڈر کے قریب موجودہ قصبہ کو دوبارہ آباد کیا۔ تاریخ مخزن پنجاب کے مطابق اس کے اصل مالک یہاں کے سندھو جاٹ اور قصبہ کے اروڑے و برہمن و بلوچ تھے۔ یہ قصبہ سکھوں کی نکئی مثل کے سرداروں کا دارالریاست تھا،اسی وجہ سے سکھوں کی غارت گری کے دوران یہ قصبہ محفوظ رہا اور مسلسل ترقی کرتا رہا۔ انگریزی دور میں سردار کاہنہ سنگھ نکئی یہاں کا جاگیردار تھا۔ اسے مجسٹریسی کے اختیارات بھی حاصل تھے جبکہ اس کا بیٹا اسیر سنگھ ذیلداری کے عہدے پر فائز تھا۔ سکھوں کے عہد میں یہاں سارن سنگھ نکئی نے ایک قلعہ تعمیر کیا، جو انگریزی عہد میں کاہنہ سنگھ کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ انگریزوں نے جب پنجاب پر قبضہ کیا، تو اس قلعے کے مورچے بند کروا دئیے۔ رفتہ رفتہ یہ قلعہ معدوم ہوتا چلا گیا۔ تاریخ مخزن پنجاب کے مطابق 1877ء میں اس تاریخی قصبہ کی آبادی1821 نفوس پر مشتمل تھی۔ بھڑوال کا قصبہ اس وجہ سے بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ سکھوں کے گورو، سری ارجن جی اپنے چیلوں کے ہمراہ یہاں آئے تھے۔ماخذ..نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی،تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

تونسہ شریف…ہماراثقافتی ورثہ

محمد عرفان قیصرانی یونان صغیر تونسہ شریف جو حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کی …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: