Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
عزم وہمت کی بے مثال تصویر.....صغریٰ سولنگی - Lahori
Home / خواتین کارنر / عزم وہمت کی بے مثال تصویر…..صغریٰ سولنگی

عزم وہمت کی بے مثال تصویر…..صغریٰ سولنگی

سندھ کے علاقے خیرپور کی صغریٰ سولنگی سندھ کے آٹھ سے زائد اضلاع میں خواتین پر تشدد‘ بچپن کی شادیوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر کام کر رہی ہیں، یہی وہ شعبے ہیں جن کا وہ شکار بن چکی ہیں۔ صغریٰ سولنگی کی شادی 12 سال کی عمر میں ہوئی، پڑھی لکھی نہیں تھیں۔ شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتا تھا۔ صغریٰ کے مطابق چار سال کے بعد شوہر کو یہ لگا کہ ’میں خوبصورت اور پڑھی لکھی نہیں اور اس نے دوسری شادی کرنی ہے، لیکن جہاں وہ شادی کرنا چاہتا تھا ان کی یہ شرط تھی کہ وہ پہلے مجھے چھوڑے اس طرح اس نے مجھے طلاق دے دی۔‘ حالات سے تنگ آ کر صغریٰ نے خود کشی کا فیصلہ کیا۔ بقول اس کے ’ایک مرتبہ میں مکمل ہار گئی، دونوں بچوں کو لے کر نہر پر چلی گئی اور یہ طے کر لیا کہ میں نے مرنا ہے، بیٹی گود میں تھی، بیٹے کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا جیسے ہی میں نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی تو اس نے میرا پلو کھینچ لیا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ رو پڑا کہ ہم نہیں مرنا چاہتے۔ بچوں کی محبت سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا میں نے واپسی کی راہ لی اور پھر بہن کی مدد سے محنت شروع کی۔ صغریٰ کو 2011 میں امریکا میں انٹرنیشنل وومین آف کریج کے ایوارڈ سے نوازا گیا، جب ان کی نامزدگی ہوئی تو یہ بات ان کے لیے حیران کن تھی کیونکہ بقول ان کے پاکستان میں کئی پڑھی لکھی خواتین این جی اوز میں کام کر رہی ہیں اور ان کا تو کوئی سیاسی پس منظر بھی نہیں تھا۔ سابق صدر بارک اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما اور امریکہ کی خاتون اول اور وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے انہیں ایوارڈ دیا۔ صغریٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ مشیل اوباما اور ہلیری کلنٹن دونوں بہت مثبت اور ہمدرد تھیں، وہ ان کی طرف سے بول رہی تھیں کہ صغریٰ نے پاکستان میں یہ کیا یہ کیا۔ انہوں نے انہیں کہا کہ ’آپ کو یہ جو کریج ایوارڈ دیا گیا ہے وہ اسی لیے دیا گیا ہے کہ آپ دیگر خواتین کی بھی حوصلہ افزائی کریں۔‘ صغریٰ سولنگی کو اب بھی مخالفت کا سامنا ہے، لیکن انہوں نے مزاحمت نہیں چھوڑی۔ لڑکیوں کی تعلیم سے لے کر جیکب آباد میں مذہبی رواداری کے لیے کام کرنے میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ عوام کی شکایت کے ازالے کے لیے قائم محتسب کے ادارے کو بھی ان سے شکایت ہے کیونکہ انہوں نے لوگوں کو یہ آگاہی دی ہے کہ کن کن محکموں کے خلاف شکایت کی جا سکتی ہے اور کیسے اس کی پیروی کی جائے۔بی بی سی..لندن

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

’’خو شبو‘‘کی شاعرہ…پروین شاکر

ابو الہاشم کرمانی ماہِ دسمبر کے آخری عشرے میں بائیس برس قبل 26 دسمبر 1994ء …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: