Home / سیاحت / کُھڈیاں

کُھڈیاں

اسدسلیم شیخ

ضلع قصور اور تحصیل چونیاں کا ایک قصبہ۔ لاہور سے براستہ چونیاں، ملتان جانے و الی سڑک پر گنڈا سنگھ والا سے جانب مشرق دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ قصور سے اس کا فاصلہ بیس کلومیٹر ہے۔ اسے ابتداً ڈوگر زمینداروں نے آباد کیا تھا اور اس کا نام دیوان کھڈیاں تھا۔ مغل فوج کے حملوں کے باعث یہ آبادی ویران ہوگئی، پھر جب امیر تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا اور اس کے بعد قصور ی پٹھانوں کا اس علاقے میں تسلط ہوا ،تو قصور کے ایک افغان رئیس لطیف خان نے اس کو پھر سے آباد کیا اور اسے پُرانے نام سے موسوم رکھا۔ اس کی اجازت سے یہاں جاٹ ، کمبوہ، کھتری اور برہمن آکر آباد ہوئے اور مزارعوں کی حیثیت سے کاشتکاری کرتے رہے۔ جب رنجیت سنگھ نے ۱۸۰۷ء میں قصور پر قبضہ کر لیا اور قصور پٹھانوں کی حاکمیت جاری ر ہی، تویہی مزارع یہاں کے مالک بن گئے۔ بعدازاں ۱۸۴۶ء میں پنجاب انگریزوں کے قبضے میں آیا، تو یہ قصبہ بھی ان کے زیرتسلط آگیا ،اسے انتظامی طور پر ضلع لاہور کی تحصیل چونیاں میں شامل کردیا گیا۔ سکھ دور میں کھڈیاں کے نواح میں ایک کچا قلعہ تھا، جو انگریزی عہد میں گرا دیا گیا۔ اس دور میںکھڈیاں چاروں طرف سے پختہ فصیل میں گھرا ہوا ایک معقول قصبہ تھا۔ انگریزی عہد میں ہی یہاں تھانہ، ڈسپنسری اور پولیس ریسٹ ہائوس قائم ہوئے۔ ۱۸۸۱ء میں اس قصبہ کی آبادی ۲۹۱۷ افراد پر مشتمل تھی۔ ان میں ۱۰۷۱ ہندو، ۱۵۲ سکھ اور ۱۶۹۴ مسلمان تھے۔قیامِ پاکستان کے بعد اس قصبے کے تمام غیر مسلم نقل مکانی کر کے بھارت چلے گئے اور ان کی جگہ مسلمان مہاجرین آبسے۔ ۱۹۱۹ء کی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق اس وقت یہاں ایک ڈسپنسری، تھانہ اور ڈاکخانہ موجود تھے۔۱۸۷۴ء میں یہاں میونسپلٹی قائم کی گئی۔ بعدازاں اسے ختم کر دیا گیا۔ ۸ جولائی ۱۹۲۴ء کو اسے سمال ٹائون کمیٹی کا درجہ دیا گیا۔ ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ۳۱۸۴ نفوس پر مشتمل تھی۔ اب یہ ضلع قصور کا حصہ ہے۔ یہاں طلبا و طالبات کے علیحدہ علیحدہ ہائی سکول، تھانہ، ڈاکخانہ، تجارتی بازار، ریسٹ ہائوس وغیرہ موجود ہیں۔ ادبی حوالے سے ابراہیم اختر، نصر اللہ نصر کے نام کھڈیاں کی پہچان ہیں۔ ابراہیم اختر ۱۹۲۱ء میںپیدا ہوئے اور ۲۰۰۰ء میں فوت ہوئے۔ اُردو، فارسی اور پنجابی میں شاعری کرتے تھے۔ ’’حُسنِ محمدؐ‘‘ آپ کا نعتیہ مجموعہ ہے جبکہ ایک قِصّہ ’’ساہ بھری کھل‘‘ پنجابی زبان میں چھپا۔ ایک کتاب پاکستان بننے سے پہلے ’’پاکستان اور اس کی ضرورت‘‘ بھی لکھی۔ انگریز دور میں پنجاب کے مشہور کردار جگت سنگھ المعروف جگا ڈاکو کا تعلق کھڈیاں کے قریبی گائوں بُرج رن سنگھ سے تھا۔اس کردار پر پنجابی فلم بھی بنی۔ ایک اور کردار ملنگی کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔ وہ موضع سدھوالہ کا رہنے والا تھا، انگریزوں نے اسے پھانسی چڑھا دیا تھا، اسی مقام پر جگا ڈاکو بھی مارا گیا تھا۔کھڈیا ں کی آبادی ۱۹۸۱ء میں ۱۲۸۸۴ اور ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق ۲۳۱۲۷ نفوس پر مشتمل تھی۔ اب اس کی آبادی ۳۰ ہزار سے زائد ہے۔…نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

تونسہ شریف…ہماراثقافتی ورثہ

محمد عرفان قیصرانی یونان صغیر تونسہ شریف جو حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کی …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: