Home / دلچسپ / لاہور ہیری ٹیج میوزیم

لاہور ہیری ٹیج میوزیم

Lahore Heritage Museum
Lahore Heritage Museum

اسد سلیم شیخ

مال روڈ پر منفرد طرزِ تعمیر کی ایک قدیم عمارت لاہور ہیری ٹیج میوزیم ہے۔ سبز رنگ کے لکڑی کے ستون اس کے برآمدے سے ہی قطار در قطار کھڑے تھے اور اس کے اُوپر ڈھلوانی چھت اس کو قابل دید بنائے ہوئے تھی۔ قدیم طر ز کے لکڑی کے پُرانے در اندر جانے کے لیے کُھلے تھے۔ ہم اسی در کے ذریعے اندر داخل ہوئے، تو بڑے ہال کے اندرونی دروازے کے اُوپرہا فیم لکھا تھا۔ اس ہال کی بلند لکڑی کی مخروطی چھت چار ستونوں پر کھڑی تھی۔ ایک طرف دیوار پر ایک فریم میں جو عبارت درج تھی اس میں لکھا تھا کہ یہ ہال آف فیم ان ہستیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے جنھوں نے لاہور کی معاشی، مذہبی، ثقافتی، ادبی سیاسی اور معاشرتی زندگی میں اپنا کردار ادا کیا‘‘۔ دیوار کے اُ وپری حصے پر چاروں اطراف افریقی، ایشیائی اور عرب ممالک کے معروف حکم رانوں کی مُصورانہ تصویریں آویزاں تھیں۔ ان کے نیچے ان شخصیات کی تصاویر لگائی ہوئی تھیں جو لاہور کی تہذیب و ثقافت و ادب کے ساتھ وابستہ رہیں۔ ان میں ڈاکٹر لٹنر، وولفر، سر گنگا رام، بھائی رام سنگھ، لالہ لاجپت رائے، سر سکندر حیات، علامہ اقبال، ڈاکٹر عبد السلام، بھگت سنگھ، چوہدری رحمت علی، سیّد محمد لطیف ، صوفی غلام مصطفی تبسم ، پطرس بخاری، حفیظ جالندھری ، فیض احمد فیضؔ، احمد ندیم ؔقاسمی، حاجی محمد شریف، استاد اللہ بخش، عبد الرحمان چغتائی، صادقین اور گاماں پہلوان کی تصاویر نمایاں تھیں ۔ یہیں ایک عمر رسیدہ خاتون کی تصویر آویزاں تھی جس کے نیچے ’’شہزادی بمبا‘‘ کا نام لکھا تھا۔ شہزادی بمبا مہاراجا رنجیت سنگھ کی پوتی اور دلیپ سنگھ کی بیٹی تھی۔شہزادی بمبا کے پاس مغل اور سکھ عہد کے کئی نوادرات انگلستان میں محفوظ تھے، جو ان کے والد راجا دلیپ سنگھ کی حکومت کے زوال کے بعد اپنے ساتھ ا نگلستان لے گئے تھے۔ آخر مارچ ۱۹۵۷ء کو ۸۸ برس کی عمر میں شہزادی بمبا لاہور میں وفات پا گئیں۔ اس کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی، لہٰذا شہزادی نے اپنے تمام نوادرات اپنے سٹیٹ منیجر پیر کریم بخش سِپرا کو دے دئیے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر ولی اللہ خان نے شہزادی بمبا کے سیکرٹری پیر کریم بخش کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ شہزادی کے وہ نوادرات جو لندن کے ایک بنک میں امانتاً محفوظ ہیں اس پر دراصل لاہور کا حق ہے۔ اس پر کریم بخش نے لندن کے متعلقہ بنک کو نوادرات حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کا لکھ دیا۔ یوں ایک ہفتہ کے اندر اندر تمام نوادرات لندن سے لاہور بحفاظت واپس پہنچ گئے۔ حکومت ِپاکستان نے اس صلے میں پیر کریم بخش کو تمغہ خدمت سے نوازا۔ ان نوادرات کی نمایش کے لیے قلعہ میں سکھ گیلری تشکیل دی گئی اور ان نوادرات کو دو حصوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا گیا۔ ان میں مہاراجا رنجیت سنگھ کے گھوڑے کا سامان بھی تھا۔ جس کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ اسے حنوط شدہ گھوڑے کے بدن پر سجا کر شو کیس میں نمایش کیا جائے۔ اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ۱۹۹۲ء میں راوی روڈ کے ایک کوچوان سے ایک سفید رنگ کا خوب صورت گھوڑا خرید کر اسے زہر کا ٹیکہ لگا کر حنوط کرکے شو کیس میں رکھا گیا۔ پھر اسے بڑی خوب صورتی کے ساتھ مہاراجا رنجیت سنگھ کے لاڈلے گھوڑے کا خوب صورت سامان سجایا گیا۔ مگر افسوس کہ ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۹۶ء کی رات تمام سامان چوری ہو گیا۔ کئی سال بعد محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے گھوڑے کو نقلی سازو سامان سے آراستہ کرکے اس کو دوبارہ نمایش کے لیے کھڑا کر دیا گیا ۔ شہزادی بمبا کو خراج تحسین پیش کرکے ہم اس ہال سے نکل کر دائیں طرف ایک اور ہال میں داخل ہو گئے تو یہاں بھی آرٹ اور مُصوری کے مختلف نمونوں کی نمایش تھی۔ اس روز معروف مُصور اور کارٹونسٹ انور علی کے کارٹونوں کو نمایش کے لیے رکھا گیا تھا۔ انور علی کی دو کتابیں ’’کالیاں اِٹاں کالے روڑ‘‘ اور ’’گواچیاں گلاں‘‘ بھی ایک شو کیس میں سجی ہوئی تھیں۔ درمیان والے حصے میں لاہور کی قدیم ثقافت کو اُجاگر کرنے والی پینٹنگز آویزاں تھیں۔ بائیں طرف والے حصے میں ڈاکٹر اعجاز انور کی تصاویر کی نمایش ہو رہی تھی جن کو دیکھ کر ہم اندازہ کر سکتے تھے کہ ہمارا پُرانا لاہور کیسا تھا؟ یہاں سے نکل کر ہم بائیں جانب والے ہال میں داخل ہوئے اُسی طرح لکڑی کی مخروطی چھت کے نیچے پرانی طرز کے پنکھے اور بلب لٹک رہے تھے، اس ہال کے دائیں طرف نظر پڑی تو سلطنت گیلری تھی جس میں اُوپر جاتی ہوئی ایک لوہے کی گول پرانی سیڑھی تھی۔ اس ہال میں بھی مختلف طرح کی مُصوری کے نمونے اور تصاویر آویزاں تھیں۔ دیوار سے جھانکتے ہوئے لکڑی کے خوب صورت جھروکے تھے اور درمیان میں شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد اور رنجیت سنگھ کی سمادھی اور مقبرہ جہاں گیر کے لکڑی کے بنے ماڈل موجود تھے۔ یہیں لاہور سے برآمد ہونے والے مختلف سِکّوں اور اشیا کو تصویری شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ بائیں طرف سکھ برطانوی گیلری ہے اس میں سکھ اور برطانوی عہد کی تعمیرات اور معاشرت کی عکاسی کرنے والی تصاویر رکھی گئی ہیں۔ اسی جگہ لاہور پر لکھی اُردو اور انگریزی کتب و رسائل کا سٹال تھا۔ ساتھ والی گیلری میں وہ نایاب اور یادگاری نمونے موجود ہیں جو اسی تاریخی عمارت میں پہلی مرتبہ ۱۸۶۴ء میں نمایش کے لیے رکھے گئے تھے۔ ا ن میں کچھ اوزار اور رسی کے مختلف نمونے ہیں جب کہ اس دور کی نمایش کے کچھ پرانے کتبے بھی ہیں ان میں ایک کتبہ انگریزی ، اُردو اور ہندی تین زبانوں میں لکھا گیا تھا۔ ان نمونوں اور کتبوں کے ذریعے ہمیں اس عمارت کی قدامت کا اندازہ ہونے لگا اور کچھ کچھ تاریخ کا بھی۔ یہ منفرد اور قابل دید طرزِ تعمیر کی حامل عمارت ہے جو یہاں سے ہر گزرنے والے کو اپنی طرف ضرور متوجہ کرتی ہے۔ بنیادی طور پر اسے ۱۸۶۴ء میں منعقد ہونے والی ایک بڑی صنعتی زرعی نمایش کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ نمایش جنوری سے اپریل ۱۸۶۴ء تک رہی اور اس میں قدیم ہندو اور مسلم زمانوں کے عجائبات منظر عام پر لائے گئے۔ ٹولنٹن مارکیٹ کی عمارت خاص اس نمایش کے لیے تعمیر ہوئی تھی۔ پنجاب بھر سے اکٹھے کیے گئے نوادرات، قدیم سِکّے، دست کاریاں، قالین، قدیم کتابوں کے قلمی نسخے، ہتھیار، پرندے ، زرعی پیداوار، ریشمی شالیں، زیورات، روایتی لباس، نایاب تصاویر، خطاطی کے نمونے، فرنیچر اور پنجاب کے سرداروں اور جاگیرداروں کی طرف سے ارسال کردہ قیمتی اشیا اس نمایش گاہ میں رکھے گئے تھے۔ اسی وجہ سے ٹولنٹن مارکیٹ سے گول باغ تک کا علاقہ نمایش روڈ کہلانے لگا۔ نمایش کے اختتام پر زرعی اور صنعتی اشیا کو الگ کر دیا گیا اور نوادرات کا حصہ الگ کرکے اسی عمارت میں نمایش کے لیے رکھ کر اسے ابتدائی طو رپر عجائب گھر کا درجہ دے دیا گیا۔ گویا یہ مارکیٹ پہلے نمایش گاہ اور پھر میوزیم کے طور پر کام آئی۔ اس کے سامنے زم زمہ توپ بھی سجا دی گئی۔ اصل عمارت اس وقت کے مروجہ بنگلا طرز پر تعمیر ہوئی۔ جس کے چاروں اطراف برامدے رکھے گئے اور ڈھلوانی چھت بنائی گئی جن کو لکڑی کے پلرز سے سہارا دیا گیا۔ نمایش گاہ کے ہال کی لمبائی ۱۱۲ فٹ تھی۔ ہال کو روشن رکھنے کے لیے لکڑی کی بڑی کھڑکیاں لگائی گئیں اور چھت پر بارہ فٹ کے بلند دو مینار بھی بنائے گئے۔ یہ عمارت اس لیے منفرد ہے کہ اس میں لکڑی کا استعمال بہت زیادہ ہوا ہے۔ اس کے فرنٹ والے حصہ میں خاص طور پر لکڑی کا استعمال زیادہ کیا گیا ہے۔ ۱۸۹۵ء میں جب میوزیم کی الگ عمارت اس کے قریب ہی مکمل ہو گئی تو نمایش گاہ کی عمارت خالی ہو گئی اور اسے لاہور میونسپل کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔ ۱۹۲۰ء کی دہائی میں اسے ایک مارکیٹ میں بدلنے کے لیے اس کی تعمیر نو معروف انجینئر سر گنگا رام کی زیر نگرانی کی گئی اور اس کا نام سیکرٹری حکومت پنجاب ایچ پی ٹولنٹن(H.P. Tollinton) کے نام سے موسوم کرکے ٹولنٹن مارکیٹ رکھا گیا۔ کئی دہائیوں تک یہ روزمرہ اشیا کی خرید و فروخت کا مرکز رہی اور اس میں الحمرا سٹور، پنجاب سٹور، مٹن مارکیٹ اور فش مارکیٹ کام کرتی رہی۔ قیام پاکستان سے پہلے یہاں ایم فیروز دین اینڈ سنز کے نام سے فوٹو گرافی کی قدیم دکان ہوتی تھی۔ ۱۰۴ مارکیٹ کی نُکڑ پر کتابوں اور اخبارات کی دکان ہوتی تھی۔ یہاں سے ہر قسم کے اخبارات کے علاوہ رسائل بھی مل جایا کرتے تھے۔ کچھ برس پہلے مال روڈ کی خوب صورتی میں اضافہ کرنے کے لیے اور اس کے اصلی اور قدیم حُسن کی بحالی کے لیے اقدامات شروع ہوئے تو ٹولنٹن مارکیٹ کو بھی دکان داروں سے خالی کرا لیا گیا۔ اس سلسلے میں حکومت اور دوکان داروں کے مابین کافی جھگڑا چلتا رہا۔ بالآخر انھیں متبادل جگہ فراہم کرکے معاملے کو حل کر لیا گیا۔ ۲۰۰۶ء میں ٹولنٹن مارکیٹ کی تزئین و آرایش کرکے یہاں لاہور ہیری ٹیج میوزیم قائم کر دیا گیا ہے۔..ٹھنڈی سڑک:مال روڈ لاہور کا تاریخی ، ثقافتی اور ادبی منظر نامہ

کے بارے میں ویب ڈیسک

بھی چیک

Mosque hazarat Ali Hajveri.R.A

جب مسجدحضرت علی ہجویریؒ کے دو مینار گرنے سے 9 افراد جاں بحق،50 زخمی ہوئے

لاہورمیں12 جولائی1963ء کوخوفناک بادوباراں اور طوفانی ہواؤں کی وجہ سے مسجدحضرت علی ہجویریؒ المعروف داتاصاحب …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: