Home / انٹرٹینمنٹ / مزاراقبال کی تعمیر کی دلچسپ کہانی ….. جسٹس(ر) جاوید اقبال

مزاراقبال کی تعمیر کی دلچسپ کہانی ….. جسٹس(ر) جاوید اقبال

1977ء سے پیشتر ہی علامہ اقبال کے صد سالہ جشن ولادت منانے کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔ بھٹو حکومت نے اس مقصد کے لئے نیشنل اقبال کمیٹی قائم کی جس کے ممبروں میں مولانا کوثر نیازی‘ حفیظ پیرزادہ دیگر لوگوں کے علاوہ میں بھی شامل تھا۔ کمیٹی کے دو ایک اجلاس لاہور گورنر ہاؤس میں ہوئے جن کی صدارت بھٹو نے کی۔ دیگر تجاویز کے علاوہ دو باتیں خصوصی طور پر قابل غور تھیں۔ایک کا تعلق تو ’’جاوید منزل‘‘ کو مجھ سے خرید کر ’’اقبال میوزیم‘‘ میں تبدیل کرنا تھا اور دوسری تجویز کے مطابق علامہ اقبال کے مزار کی تعمیر نو حافظ و سعدی کے مزارات کی صورت میں کرنا تھی۔ یہ تجویز غالباً بھٹو کی تھی۔ میں نے کمیٹی کے اجلاس میں اس کی مخالفت کی ۔ میرا مؤقف تھا کہ مزار مسلمانوں کے چندے سے تعمیر ہوا ہے اور اس کی موجودہ طرز تعمیر کی قبولیت کے پیچھے بڑی دلچسپ روداد ہے۔ اقبال مزار کمیٹی نے مزار کے نقشے کے لئے ظاہر شاہ (افغانستان کے بادشاہ) اور نظام حیدر آباد سے استدعا کی کہ اس سلسلے میں کمیٹی کی مدد کریں۔
افغانستان کے سرکاری اطالوی ماہر تعمیرات نے جو نقشہ بھیجا اس میں اطالوی انداز میں تربت پر علامہ اقبال کا مجسمہ ہاتھ باندھے لٹایا گیا تھا۔ دوسری طرف حیدر آباد دکن سے جو نقشہ آیا وہ وہ کچھ ایسا تھا‘ گویا کسی بلبل کو نہایت باریک اور خوبصورت پنجرے میں بند کر دیا ہو۔ کمیٹی نے اطالوی ماہر کا نقشہ تو غیر موزوں سمجھ کر مسترد کر دیا‘ مگر حیدر آباد دکن کے ماہر تعمیرات زین یار جنگ کو لاہور آنے کی دعوت دی گئی۔ جب وہ لاہور آئے تو چودھری محمد حسین صدر اقبال مزار کمیٹی انہیں اپنے ساتھ موقع پر لے گئے۔
بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں پر انہیں بٹھا کر فرمایا: ’’دیکھئے! ایک طرف قلعہ لاہور کا صدر دروازہ ہے جو مسلمانوں کی ریاستی شوکت کا نشان ہے اور دوسری طرف بادشاہی مسجد میں داخل ہونے کے لئے صدر دروازہ ہے جو ان کی روحانی عظمت کا نشان ہے۔ علامہ اقبال اسلام کی ریاستی شوکت اور دینی عظمت کے علمبردار تھے۔
ان کا تعلق گل و بلبل کی شاعری سے نہ تھا بلکہ وہ فقر و سادگی‘ عزم و ہمت‘ تگ و دو اور عمل پیہم کے شاعر تھے۔ اس لئے ان کے مزار کی عمارت اس طرز کی ہونی چاہئے جو ان اقدار کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ مسجد کی مشرقی دیوار سے‘ جس کے زیر سایہ ان کی تربت ہے‘ بلند نہ ہونے پائے۔ زین یار جنگ چودھری محمد حسین کی بات سمجھ گئے اور انہوں نے واپس جا کر نیا نقشہ بنایا اور کمیٹی کو بھجوایا جو پسند کیا گیا۔ مزار کی موجودہ عمارت اسی نقشے کے مطابق تعمیر کی گئی ہے۔
یہ کنول کے پھول کے اندر ایک طرح کا مضبوط و مستحکم مصری ’’ٹیلہ‘‘ (پیرامڈ)ہے جسے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہے تاکہ مسجد کی دیوار سے عمارت سر نہ نکالے۔ مزار کے اندر چھت پر اور باہر جو اشعار کندہ ہیں وہ علامہ اقبال کے دست راست چودھری محمد حسین نے ان کے بنیادی تصورات کو ذہن میں رکھتے ہوئے منتخب کئے تھے۔ کتبہ اور تعویذ ظاہر شاہ کی طرف سے ہدیہ ہیں اور پتھر میں کندہ اشعار کی خوشخطی اس زمانے کے معروف کاتب ابن پرویں رقم کی ہے۔ نئی عمارت تعمیر کرنے کے لئے یہ سب کچھ مسمار کرنا پڑے گا۔اس لئے تاریخ کا لحاظ کرتے ہوئے مزار کی موجودہ صورت کو من و عن اسی طرح رہنے دیا جائے۔
میری رائے مان لی گئی‘ مگر مزید کہا گیا کہ کم از کم مزار کے باہر کے دالان کو وسیع کر دیا جائے اور چاروں طرف گارڈز کے کھڑے ہونے کے لئے چبوترے تعمیر کر دیئے جائیں۔ میں اس تجویز کے بھی خلاف تھا کیونکہ علامہ اقبال ایک درویش تھے۔ ان کی آرام گاہ پر گارڈز کی ضرورت نہ تھی‘ لیکن میری اس بات سے اتفاق نہ کیا گیا۔ بھٹو کی رائے تھی کہ پاکستان اقبال کا خواب تھا۔
وہ مصور پاکستان تھے۔ ان کے مزار کی زیارت کے لئے دنیا بھر کے ملکوں کے سربراہان آتے ہیں‘ لہٰذا ان کا تعلق پاکستان کی ’’نیشن سٹیٹ‘‘ سے بھی ہے۔ سوریاست کے بانی کے طور پران کے مزار پر گارڈز اور معمول کے مطابق گارڈز کی تبدیلی کانظام ضروری ہے۔ اس تجویز کے مطابق مزار کے باہر دالان کو وسعت دے دی گئی اور گارڈز کے لئے چبوترے بھی تعمیر ہو گئے۔(جسٹس(ر) جاوید اقبال مرحوم کی خود نوشت سوانح’’اپنا گریبان چاک‘‘ سے اقتباس)

کے بارے میں adminlahori

بھی چیک

طاہرشاہ نے نئے سال کی آمد پرنئی ویڈیوریلیزکردی

طاہرشاہ نے نئے سال کی آمد پرنئی ویڈیوریلیزکردی۔اپنی نئی ویڈیو کو طاہر شاہ نے ’انسانیت …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: