Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 77

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/_inc/lib/class.media-summary.php on line 87

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/horla/public_html/wp-content/plugins/jetpack/modules/infinite-scroll/infinity.php on line 155
عہدشاہ جہاں کے گورنرلاہورنواب وزیرخان اوران کی یادگاریں - Lahori
Home / ادب وثقافت / عہدشاہ جہاں کے گورنرلاہورنواب وزیرخان اوران کی یادگاریں

عہدشاہ جہاں کے گورنرلاہورنواب وزیرخان اوران کی یادگاریں

wazeer khan
Nawab wazeer khan

مغلیہ دور میں لاہور شہر کے گورنرحکیم شیخ علیم الدین انصاری کاتعلق چنیوٹ سے تھا۔وزیرخان عالم فاضل اور فن طب کے ماہرتھے۔وہ عربی، فارسی اور فلسفہ پر گہری نظررکھتے تھے۔ فن طب ہی کے باعث ان کی رسائی مغل دربار تک ہوئی اور عہد شاہ جہانی میں دیوان، بیوتات اور نواب وزیر خان جیسے القابات حاصل کئے۔ شاہی خاندان کے خاندانی طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ وہ گورنر پنجاب کے عہدے تک بھی پہنچے۔
وزیرخان کا خاندان چنیوٹ سے ہجرت کر کے لاہور آیااوریہیں سے ان کاعروج شروع ہوا۔ان کی تعمیرکردہ مسجد وزیر خان کی تعمیراور نقاشی کے اعلیٰ نمونے اب بھی یورپ کی آرٹ کلاسوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔لاہورمیں انھوں نے کئی تعمیرات کرا ئیں جن میں شاہی حمام، مسجد وزیر خان خورد اوربارہ دری نمایاں ہیں۔
انھوں نے گجرات کے قریب ایک نئے شہر ’’وزیر آباد‘‘کی بنیادرکھی۔ اس کے علاوہ ان کی تعمیرات کے نشان چنیوٹ اور وزیر آباد میں بھی ملتے ہیں۔ عہد شاہ جہانی کے مورخ ملا محمد صالح کمبوہ نے اپنی کتاب ’’عمل صالح‘‘ میں حکیم علیم الدین کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ حکیم علیم الدین مخاطب بہ وزیر خان: وطن پنجاب ہے، حکیم داؤدی سے فن طب پڑھ کر تھوڑے ہی عرصہ میں معالجات کے تمام صیغوں پر حاوی ہو گیا۔ ایسا ماہر و حاذق کہ ہر مرض کی صحیح تشخیص کر کے معرکہ آرا علاج کرتا، مدتوں تک شاہ جہان اور شاہزادوں کا معالج رہا اور اس فن کی بدولت حضرت کا محرم خاص ٹھہرا۔ دیوان بیوتات‘ خانسامانی اور دیوانی (وزات مال) کی خدمتوں پر سرفراز رہا‘ شاہ جہان نے تخت پر جلوس فرمایا تو پانچ ہزاری و سوار کا منصب دے کر پنجاب کا صوبے دار مقرر کیا۔ نواب وزیر خان جب مغل سرکار کے قریبی روابط میں آئے تو مالی حالات بہتر ہونے لگے اور شاہ جہان چونکہ خود تعمیرات کا شوقین تھا اس لیے حکیم صاحب کا رجحان بھی تعمیرات کی جانب گیا اور کئی اعلیٰ ترین عمارات تعمیر کروائیں۔ ان ہی میں سے مسجد وزیر خان بھی ہے۔ نواب وزیر خان نے اس مسجد کی بنیاد 1066ھ بمطابق 1634ء میں رکھی۔ مغل عہد سے قبل لودھی عہد میں یہ مسجد کی جائے تعمیر ’’حملہ رڑہ‘‘ کے نام سے معروف تھی۔
وزیرخان جیسی باکمال شخصیت کے متعلق جس قدر لکھاجاناچاہیے تھاشاید نہیں لکھاگیا۔اس کمی کوسیّدفیضان عباس (لاہورکاکھوجی) نے پوراکرنے کی کوشش کی ہے۔ پروفیسراسدسلیم شیخ کے بقول ’’ایسی نیک جُو شخصیات کے تذکرے اپنے اسلاف کوزندہ رکھنے کی ایک بہترین کوشش ہوتے ہیں۔ اس میں سیّدفیضان عباس نقوی نے اپناحصہ ڈال کرایک قابل داد کام سرانجام دیاہے۔‘‘
پروفیسر مرزاصفدربیگ کہتے ہیں ’’ یہ کتاب جہاں ایک تاریخی ماخذ کادرجہ رکھتی ہے وہاں تاریخ کے طالب علموں اورتاریخ سے دلچسپی رکھنے والے عام قارئین کے لیے بھی خاطرخواہ دلچسپی کاموادلیے ہوئے ہے،خاص طورپر لاہورکی تاریخ کے حوالے سے یہ کتاب ایک اہم دستاویزثابت ہوگی۔‘‘
کتاب میں نواب وزیرخان کے ابتدائی حالات، وجہ شہرت، مغل دربار سے وابستگی، لاہورکی گورنری، نواب وزیرخان کی تعمیرات کاتفصیل سے ذکرکیاگیاہے۔علاوہ ازیں کتاب میں نواب وزیرخان کے دورکی دوسری شخصیات کاتذکرہ بھی موجودہے۔ کتاب کوخوبصورت رنگین تصاویرکے اضافے نے چارچاند لگادیے ہیں۔کتاب فکشن ہاؤس لاہور،حیدرآباداورکراچی سے چارسوروپے کے عوض دستیاب ہے۔
مبصر:ابن مرتضیٰ

کے بارے میں adminlahori

بھی چیک

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے…..ناصرکاظمی

غزل نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے وہ شخص …

جواب دیجئے

%d bloggers like this: